بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

زیادتی کیس میں ملوث فاروق بندیال کو پارٹی سے نکالنے پر اداکارہ شبنم کا بھی ردعمل سامنے آگیا، ایسی بات کہہ دی کہ سوشل میڈیا پر کپتان پرتنقید کرنیوالوں کی بولتی بند کرادی، پاکستانیوں کو مخاطب کر کے کیاکہہ دیا؟

datetime 1  جون‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ماضی کی معروف اداکارہ شبنم کے ساتھ زیادتی کے واقعے میں ملوث فاروق بندیال کو پی ٹی آئی سے نکالنے پر اداکارہ عمران خان کی شکرگزار۔تفصیلات کے مطابق کچھ روز قبل خوشاب سےتعلق رکھنے والے معروف کاروباری اور ٹرانسپورٹ کے شعبے سے منسلک فاروق بندیال نے پی ٹی آئی میں شمولیت اختیار کی تھی اور تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے

انہیں تحریک انصاف کا پرچم پہنا کر ان کی پی ٹی آئی میں باقاعدہ شمولیت کی منظوری دی تاہم سوشل میڈیا پر فاروق بندیال کے ماضی کی خبریں سامنے آنا شروع ہو گئیں اور سوشل میڈیا صارفین نے اس حوالے سے تحریک انصاف اور عمران خان کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ سوشل میڈیا پر آنیوالی خبروں نے فاروق بندیال کے ماضی سے پردہ اٹھادیا اور پاکستان کے لوگوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔ لوگ فاروق بندیال بارے بہت سی چیزیں بھول چکے تھے مگر بھلا ہو سوشل میڈیا صارفین کا جنہوں نے فاروق بندیال کے ماضی کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھاتے ہوئے حقیقت کو سامنے لائے 1970ءکے عشرے میں وہ ماضی کی معروف اداکارہ شبنم کے گھر ڈکیتی اور ان سے زیادتی کے واقعے میں ملوث تھا۔جیسے ہی یہ بات سامنے آئی تو سوشل میڈیا صارفین نے فاروق بندیال کے پی ٹی آئی میں شامل ہونے پر خوب لتے لئے اور تنقید کی جبکہ فاروق بندیال نامی ہیش ٹیگ بھی ٹوئٹر پر مقبول ہوگیا۔سربراہ تحریک انصاف عمران خان کے فیصلے کو اداکارہ شبنم نے سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور اپنی ٹویٹ میں لکھا ، ’ میں جنسی زیادتی کے ایک مجرم کو پارٹی سے نکالنے پر عمران خان کے عمل کو سراہتی ہوں ساتھ ہی میں پاکستانی عوام کی بھی مشکور ہوں جو ایک ریپسٹ کے خلاف کھڑے ہوئے، جیتے رہیں۔‘سوشل میڈیا پرعوام کی جانب سے شدید تنقید کے بعد عمران خان نے نعیم الحق

کو معاملے کی چھان بین کے احکامات دیئے اور فاروق بندیال کے جرم کی تصدیق کے بعد عمران خان نے انہیں فوری طور پر پارٹی سے نکال دیا۔خیال رہے کہ یہ معاملہ ’شبنم ڈکیتی‘ کیس کے نام سے بہت مقبول ہوا تھا۔اس ضمن میں سوشل میڈیا پر اکتوبر 1979ء کے ایک اخبار کا تراشا بھی زیر گردش ہے جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ فوجی عدالت نے شبنم ڈکیتی کیس کے پانچ مجرموں کو

سزائے موت سنائی تھی۔ان مجرموں میں فاروق بندیال ، یعقوب بٹ، عابد، تنویر اور جمشید اکبر شامل تھے، اس کے علاوہ ایک مجرم کو 10 سال قید اور ساتواں مجرم مفرور قرار دیا گیا تھا، ان مجرموں کو کوٹ لکھپت جیل میں سزائے موت کے قیدیوں کی کوٹھڑی میں رکھا گیا تھا۔بعدازاں فاروق بندیال نے دبائو ڈال کر اداکارہ شبنم کو مجبور کیا جس پر اداکارہ شبنم نے انہیں دبائو میں آکر معاف کر دیا تھا تاہم اس کے بعد اداکارہ شبنم نے پاکستان اور فلمی دنیا کو خیر آباد کہہ دیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…