جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

چیئرمین نیب کو نواز شریف کے خلاف 4.9 ارب ڈالر کی بھارت منی لانڈرنگ سکینڈل کی تحقیقات میں مشکلات کا سامنا،کون سا کام شروع کردیاگیا؟حیرت انگیزانکشافات

datetime 27  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (آن لائن) چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کو نواز شریف کے خلاف 4.9 ارب ڈالر کی بھارت منی لانڈرنگ سکینڈل کی تحقیقات میں ہزیمتکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چیئرمین نیب نے یہ تحقیقات ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان منگی کے حوالے کی تھیں جس نے یہ تحقیقات غیر پیشہ و رانہ طریقہ سے شروع کرکے نیب کے تشخص کو بھاری نقصان پہنچانا شروع کردیا ہے ۔نیب نے پیشہ وارانہ طریقہ سے تحقیقات کی بجائے مقامی اخبارات کے کالم نگار پر انحصار کرنا شروع کردیا ہے

جس نے نیب کی تحقیقات کا حصہ بننے سے واضح انکار کردیا ہے اور نیب حکام کالم نگار محمدتوصیف الحق کی منتیں کرنے میں مصروف ہیں نیب نے ابتدا ہی میں کالم نگار محمد توصیف الحق کو نوٹس جاری کیا تھا لیکن موصوف نے نیب کی تحقیقات کا حصہ بننے سے واضح انکار کردیا جس کے نتیجہ میں اب نیب حکام پریشانی میں مبتلا ہیں کیونکہ عالمی بینک نے بھی پریس ریلیز جاری کرکے نواز شریف کی طرف سے بھارت کو 4.9 ارب ڈالر منی لانڈرنگ کی نفی کی تھی اور نیب کے موقف کو خیالی پلاؤ قرار دیاہے۔ نواز شریف نے چیئرمین نیب کو ایک ارب ہرجانے کا نوٹس جاری کرکے مطالبہ کیا ہے کہ وہ الزامات ثابت کریں یا عوام کے سامنے معافی مانگیں۔ ڈائریکٹر جنرل نیب راولپنڈی عرفان منی نے جان بوجھ کر اس تحقیقات کو خراب کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور نیب جیسے قومی ادارہ کو ہزیمت سے دو چار کرنے میں مصروف ہیں۔ اگر پیشہ وارانہ طریقہ سے تحقیقات کی جاتیں تو کالم نگار پر انحصار نہیں کیا جاسکتا تھا بلکہ سٹیٹ بینک کے علاوہ دیگر بینکوں سے بھارت منتقل کئے گئے ڈالروں کی تفصیلات طلب کی جانی تھیں اور بھارتی شہریوں کی پاکستان میں موجودگی اور ان کی طرف سے بھارت سرمایہ بھیجنے کی تحقیقات کرنا تھا لیکن نیب حکام جان بوجھ کر اس مقدمہ کو خراب کرکے نواز شریف کو خفیہ طریقہ سے فائدہ پہنچانے میں مصروف ہیں تاکہ انتخابات کی آمد سے پہلے نواز شریف کو کلین ثابت کر سکیں اور ان کی پانامہ میں چھپائی گئی دولت کا تحفظ کیا جاسکے۔

نواز شریف کے خلاف 4.9 ارب ڈالر کی بھارت میں منی لانڈرنگ کی تحقیقات چیئرمین نیب جسٹس جاوید اقبال کے لئے ایک چیلنج ہے اور اب دیکھنا یہ ہے کہ وہ اس چیلنج سے کس طرح سے نبردازما ہوں گے اگر انہوں نے نیب میں موجود کرپٹ افسران اور چوہدری قمر الزمان کی باقیات پر انحصار رکھا تو نیب جیسے قومی ادارہ کو تباہ ہونے سے کوئی بچا نہیں سکتا کیونکہ کرپٹ سیاستدان تو پہلے ہی اس ادارہ کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ (عابد شاہ/مانیٹرنگ ڈیسک)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…