جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کا مالی بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا،ادائیگیاں جلد نہ ہوئیں تو کتنے بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا؟انتہائی افسوسناک تفصیلات منظر عام پر آگئیں

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پی آئی اے کا مالی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے فیول کمپنیوں کو ادائیگیاں نہ ہوسکیں۔ذرائع کے مطابق اگر ادائیگیاں جلد نہ ہوئیں تو طیاروں کا فیول ملنا بند ہوجائے گا جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کو مزید فنڈز دینے سے انکار کر دیا ہے،

جس کی وجہ سے فیول کمپنیوں کو ادائیگیاں کھٹائی میں پڑگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن کو طیاروں کی لیز کے ایک ارب روپے ادا کرنے ہیں، جب کہ فیول کمپنیوں اور اوور فلائنگ کی مد میں 4 لاکھ ڈالر یومیہ ادا ئیگی کرنا پڑتی ہے۔قومی ایئرلائن کو 13 ہزار سے زائد ملازمین کی تنخواہوں کے لیے ایک ارب 20 کروڑ روپے کی بھی ضرورت ہے جب کہ فنڈز نہ ہونے کی وجہ سے ملازمین کی تنخواہیں بھی کھٹائی میں پڑگئی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی ایئرلائن نے بونس کا اعلان کیا تھا، اب ملازمین کو تین ماہ بونس کا یہ اعلان بھی پی آئی اے کے لیے اضافی مالی بوجھ کا سبب بن گیا ہے۔واضح رہے کہ ناقص حکمت عملی کے باعث دو ماہ قبل کی ایک رپورٹ کے مطابق پی آئی اے کو 6 ماہ میں 21 ارب 50 کروڑ روپے کا آپریٹنگ نقصان اٹھانا پڑا تھا۔ جب کہ اس سے قبل 2 ماہ میں پی آئی اے کو 6 ارب 50 کروڑ روپے نقصان کا سامنا رہا تھا۔  پی آئی اے کا مالی بحران سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، خزانہ خالی ہونے کی وجہ سے فیول کمپنیوں کو ادائیگیاں نہ ہوسکیں۔ذرائع کے مطابق اگر ادائیگیاں جلد نہ ہوئیں تو طیاروں کا فیول ملنا بند ہوجائے گا جس کی وجہ سے فلائٹ آپریشنز شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن کو مزید فنڈز دینے سے انکار کر دیا ہے، جس کی وجہ سے فیول کمپنیوں کو ادائیگیاں کھٹائی میں پڑگئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…