منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں کو سب جانتے ہیں، خالد بن سلمان

datetime 26  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)واشنگٹن میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد بن سلمان کا کہنا ہے کہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز کے دور سے خادم حرمین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے دور تک مسئلہ فلسطین 70 برسوں سے سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں مرکزی معاملہ رہا ہے۔ عرب ٹی وی کے مطابق اپنے ایک بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ تمام تر دباؤ کے باجود فلسطین مرکزی معاملہ ہی رہے گا ۔

اور سیاسی نشیب و فراز سے متاثر نہیں ہو گا۔سعودی سفیر نے کہا کہ مملکت فلسطینی عوام کو ان کے قانونی حقوق دلانے کی کوشش میں تمام عرب اور اسلامی ممالک کی صف میں سب سے آگے ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی بھائیوں کی سپورٹ کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ایک اعزاز اور فریضہ ہے کیوں کہ اس سرزمین پر مسلمانوں کا قبلہ اوّل اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے معراج کے سفر کا اہم مقام واقع ہے۔شہزادہ خالد بن سلمان کے مطابق سعودی عرب نے فلسطینی بھائیوں کے لیے اپنے دروازے کھول دیے۔ اندرونی سطح پر انہیں روزگار، تعلیم اور علاج کے مواقع فراہم کیے جب کہ بیرونی سطح پر ان کی مالی سپورٹ کی۔ مملکت نے فلسطینی سامان اور مصنوعات کی درآمد کے لیے کسٹم ڈیوٹی کی ضمانت لی اور فلسطینی اتھارٹی کے سالانہ بجٹ کے ایک بڑے حصّے کو پورا کیا۔سعودی سفیر نے بتایا کہ مملکت نے مسجد اقصیٰ کے تشخص کی حفاظت کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ اس مقصد کے لیے کئی متعلقہ تنظیموں اور فنڈز کو سپورٹ کیا۔شہزادہ خالد کے مطابق مملکت سعودی عرب خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کی قیادت میں دنیا میں ہر جگہ عالم اسلام اور عرب دنیا کے مسائل میں ان کے ساتھ کھڑی رہے گی جن میں سرفہرست مسئلہ فلسطین ہے۔سعودی سفیر نے اپنی ٹوئیٹس کے اختتام پر باور کرایا کہ فلسطین میں قابض حکام کے خلاف مزاحمت کار کے طور پر معروف افراد کے لیے روا نہیں کہ وہ ایران کے ساتھ کھڑے ہوں اور اسے سپورٹ کریں۔ ایسے وقت میں جب کہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ ایرانی نظام عرب دارالحکومتوں پر قبضے کے لیے کوشاں ہے اور وہاں قتل عام اور خون ریزی کا ارتکاب کر رہا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…