جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پاکستان نے روسی کمپنی کو بلوچستان میں ایسا کام کرنے کی ذمہ داری سونپ دی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہو گا، معاہدے پر دستخط کر دیے گئے، حیرت انگیز انکشافات

datetime 24  مئی‬‮  2018 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک)بلوچستان حکومت نے صوبے میں آبی قلت اور خشک سالی کے پیش نظر روسی کمپنی سے تجرباتی بنیاد پرمصنوعی بارش کا معاہدہ کرلیا ہے۔بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور روسی کمپنی کے نمائندوں کی ملاقات میں گوادر میں سوڑ ڈیم اور آنکاڑہ کور ڈیم پر مصنوعی بارش برسانے کے تجربے کی منظوری دی گئی ہے۔

اس ملاقات کے دوران روسی ماہرین نے آگاہ کیا کہ کمپنی بلوچستان میں سالانہ تین سو ملی میٹر مصنوعی بارش برسانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق جدید سائنسی طریقہ کار کے تحت سمندر کے اوپر بادل بناکر انہیں کسی بھی علاقے کے اوپر لے جا کر برسایا جا سکتا ہے۔ ہوائی جہاز کے ذریعے مصنوعی بارش میں بادلوں پر دو سے چار فٹ کی بلندی سے کاربن ڈائی آکسائیڈ، سوڈیم کلورائیڈ اور سلور آئیوڈائیڈ جیسے مرکبات چھڑکائے جاتے ہیں۔ اس مصنوعی بارش کے لیے بادلوں کی تہہ کو سات سے دس ہزار فٹ موٹا ہونا چاہیے۔رپورٹ کے مطابق ہوا میں 70 سے 75 فیصد نمی اور رفتار 30 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ ہونا ضروری ہے۔ یہ مصنوعی بارش گرمی کی شدت میں کمی لانے اور خشک سالی کے خاتمے کے لیے کی جائے گی۔ واضح رہے کہ اٹھارہ سال پہلے تھر میں خشک سالی ختم کرنے کے لیے ہونے والا مصنوعی بارش کا تجربہ جزوی طور پر کامیاب رہا تھا، بیجنگ میں فضائی آلودگی کے خاتمے کے لیے مصنوعی بارشیں برسانا معمول ہے۔ چین بادلوں پر یہ مخصوص تجربہ کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے، چین کے علاوہ بھارت، متحدہ عرب امارات اور جنوبی افریقہ میں بھی مصنوعی بارشیں برسانے کے لیے تجربات کیے جاتے ہیں۔ بلوچستان حکومت نے صوبے میں آبی قلت اور خشک سالی کے پیش نظر روسی کمپنی سے تجرباتی بنیاد پرمصنوعی بارش کا معاہدہ کرلیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…