جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

’’نیٹ آن کردیو،تائے دی لاش‘‘ پاکستان کے سب سے بڑے’’رن مرید‘‘ نے پی ٹی سی ایل والوں سے وہ مفت کام کروالیا،جو پاکستانی پیسے دیکر بھی نہیں کرواپاتے،ویڈیو نے دھوم مچا دی

datetime 23  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سوشل میڈیا پر راتوں رات شہرت ملنے کے بعد پاکستان کے سب سے بڑے ”رن مرید“ نے اب  باقاعدگی سے مزاحیہ ویڈیوز بنانا شروع کر دی ہیں اور اس مرتبہ تو پی ٹی سی ایل والوں سے وہ کام مفت میں کروا لیا جو پاکستانی پیسے دے کر بھی نہیں کروا سکتے۔علی کی اس نئی ویڈیو نے مقبولیت میں پہلی ویڈیو کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے جس میں علی نے پی ٹی سی ایل کسٹمر سروس فون کر کے 10 ہزار  سے

زائد بل ہونے کے باوجود بھی انٹرنیٹ سروسز آن کروا لیں۔ علی نے پی ٹی سی ایل کسٹمر سروس فون کیا اور اپنے مخصوص انداز میں روتے ہوئے فریاد کی کہ ”ساڈا نیٹ آن کر دیو، تایا جرمنی فوت ہو گیا اے، اودی لاش ویکھنی اے۔۔۔“کال سننے والا کمپنی کا نمائندہ پہلے تو اسے یہ بتاتا ہے کہ اس کے ذمے 10 ہزار روپے سے زائد بل ہے اور اگر وہ اس کی آدھی قیمت بھی ادا کر دیتا ہے تو اس کا انٹرنیٹ آن کر دیا جائے گا لیکن علی کچھ ایسے انداز میں دہائیاں دیتا ہے کہ نمائندہ اس کی کال اپنے سینئر کو منتقل کر دیتا ہے۔سینئر افسر علی کا مسئلہ سن کر اس انٹرنیٹ سروس وقتی طور پر بحال کرنے کی حامی بھر لیتا ہے اور یوں علی کو اپنے مقصد میں کامیابی مل جاتی ہے۔ ویڈیو دیکھ کر علی کی اداکاری کی تعریف تو کی جانی چاہئے لیکن یہاں پی ٹی سی ایل والوں کی انسانیت کی بھی تعریف کی جانی چاہئے جس نے ماہ رمضان میں انسانیت کا مظاہرہ  کیا ہے۔سوشل میڈیا پر علی کی اس اداکاری کی بھی بھرپور تعریف کی جارہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…