ہفتہ‬‮ ، 11 اپریل‬‮ 2026 

طالبان کا افغانستان کے مختلف حصوں پر قبضہ اورحملے جاری ہیں،امریکہ نے شکست کااعتراف کرلیا

datetime 22  مئی‬‮  2018 |

واشنگٹن(این این آئی)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے افغانستان کے لیے حکمت عملی کی تشکیل نو کے طالبان کی عسکریت پسندی کے خلاف کم ہی نتائج برآمد ہوئے ہیں اور امریکی مداخلت کے 17 سال بعد یہ ملک ایک خطرناک اور غیر مستحکم صورتحال سے دوچار ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات امریکہ کے ایک حکومتی نگران تنظیم کی طرف سے بتائی گئی جو کہ امریکی فوج کے ان دعووں سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں کہا گیا تھا کہ امریکی معاونت سے افغان فورسز نے صورتحال کو تبدیل کر دیا

اور طالبان کے خلاف کارروائیوں کو مہمیز کیا اور عسکریت پسند اب مضطرب اور ٹوٹ رہے ہیں۔پینٹاگان کے انسپکٹرز جنرل، محکمہ خارجہ اور امریکی ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی کے نمائندوں پر مشتمل گروپ نے کانگرس میں یہ رپورٹ پیش کی جس میں ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے افغانستان میں اس برس مزید امریکی فوجیوں کو لڑائی والے علاقوں میں افغان فورسز کے ساتھ بھیجے جانے کے فیصلے پر بھی شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا۔گروپ کے بقول اس سے شہری ہلاکتوں، فورسز کے اندر سے حملوں، امریکی جانی نقصان اور خطرہ اور بڑھ جائے گا۔فی الوقت تقریباً 15000 امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں جو کہ براہ راست لڑاکا مشن میں مصروف نہیں بلکہ یہ افغان فورسز کو معاونت فراہم کر رہے ہیں۔طالبان کی طرف سے کیے جانے والے حالیہ حملوں بشمول گزشتہ ہفتے ایرانی سرحد کے قریب واقع مغربی صوبے فرح میں ہوئے مہلک حملے کے تناظر میں پینٹاگان کی طرف سے جاری کی گئی اس رپورٹ میں کہا گیا کہ افغان فورسز کی جانب سے پیش رفت کے کچھ زیادہ پیش رفت دیکھنے میں نہیں آئی۔پینٹاگان کے ں ائب انسپکٹر جنرل گلن فائن نے رپورٹ کے ابتدائیہ میں لکھا کہ طالبان کی طرف سے علاقوں پر قبضہ جاری ہے اور انھوں نے کابل اور ملک کے مختلف حصوں میں تباہ کن دہشت گرد حملے کیے۔

پینٹاگان کے ترجمان کرنل روب میننگ نے رپورٹ کے جائزے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکام کا خیال ہے کہ افغانستان میں پیش رفت کے ساتھ ساتھ ایسی بدامنی کی صورتحال ساتھ ساتھ ہی چل رہی ہے۔ان کے بقول افغان مسلح افواج اہم کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں اور اس کے لیے انھوں نے حالیہ دنوں میں صوبہ فرح میں طالبان کے خلاف افغان فضائیہ کی کارروائیوں کی مثال دی۔میننگ کا مزید کہنا تھا کہ امریکی فوجی مشاورتی یونٹس فرح پہنچے اور وہاں مکمل طور پر اب افغان حکومت کی عملداری قائم ہے۔انسپکٹر جنرل کی رپورٹ میں بھی اتفاق کیا گیا کہ افغان سکیورٹی فورسز کی استداد کار بہتر ہو رہی ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ وہ آبادیوں کے تحفظ کے سلسلے میں معمولی پیش رفت ہی کر سکی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…