اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) گرمی کا زور ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور جون تک یوں ہی اضافہ دیکھنے کو ملتا رہے گا جس کے بعد دھوپ کی حدت تو قدرے کم ہوگی تاہم موسم برسات کے سبب گرمی اور پسینے کے اخراج کی شدت میں کوئی کمی واقع نہ ہوسکے گی۔ اس موسم میں جسم میں نمکیات اور پانی کی معمولی سی کمی بھی خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے کیونکہ پسینے کے سبب جسم سے پانی اور نمکیات کے اخراج کا عمل ویسے ہی تیز تر ہوتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے محض پانی پر انحصار کافی نہیں کیونکہ اول تو صرف پانی پینے اور پھر پیتے ہی رہنے کیلئے کوئی فرد تیار نہیں ہوتا ہے دوسرا جسم کو سادے پانی کے علاوہ کچھ نمکیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ غذائی اجزا سے تو پوری کی جاسکتی ہیں مگر سادہ پانی سے نہیں۔ اس لئے اپنی غذا میں بھی کچھ تبدیلیاں پیدا کریں، اس طرح آپ کے جسم سے پانی خارج ہونے کی مقدار بھی کم ہوگی، نیز جسم کو کچھ ضروری نمکیات بھی مل سکیں گے۔ ان اشیا میں سرفہرست سیب ہے۔ یوں تو سیب سارا سال ہی ریڑھیوں پر لدا دکھائی دیتا ہے تاہم اس موسم میں سیب کے استعمال پر خاص دھیان دیں، یہ جسم میں آئرن اور میگنیشیئم کی مقدار بھی بڑھانے میں مدد دے گا۔ دوپہر کو اگر کھانا کھانے کا موڈ نہ ہو تو دو سے تین سیب کھا لیں۔ اگر آپ کو سیب نہیں پسند ہیں تو ان کا رس نکالیں اور تازہ لیموں نچوڑ کے پی لیں۔ سیب میں وٹامن سی اور 86فیصد پانی ہوتا ہے۔
اسی طرح سلاد کے پتے بھی اس موسم میں مفید رہتے ہیں۔ سلاد کے پتے میں غذائی اجزاءکی مقدار بے حد کم ہوتی ہے جب کہ اس کا 96فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ وزن بھی نہیں بڑھنے دے گا اور آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کو بھی مستحکم رکھنے میں مددے گا۔ اس کے علاوہ اس میں پروٹین کی بڑی مقدار، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بھی بھاری مقدار میں موجود ہوتا ہے۔بروکلی کھانے کا رواج پاکستان میں زیادہ نہیں لیکن یقین مانیں کہ یہاں کے سخت موسم میں بروکلی بے حد مفید سبزی ثابت ہوسکتی ہے۔ عام گوبھی کے مقابلے میں زیادہ مہنگی بھی نہیں ، البتہ یہ عام ریڑھی والوں کے پاس دستیاب نہیں ہوتی ہے۔ اس میں تقریباً نوے فیصد پانی ہوتا ہے جبکہ اس کی اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات موسم گرما کی الرجیز سے بھی بچا سکتی ہیں۔دہی بھی موسم گرما میں استعمال کیلئے بے حد مفید ہے، اس میں نوے فیصد کے قریب پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود پروبائیوٹکس موسم گرما میں الرجیز کیخلاف قوت مدافعت دیتے ہیں جبکہ یہ پروٹین، وٹامن بی، کیلشیئم کیلئے بھی ایک مفید ذریعہ ہے۔ دہی کو لسی، شربت، رائتے سمیت متعدد اشکال میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس وجہ اس کے استعمال سے دل بھرنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا ہے۔اسی طرح ابلے ہوئے چاول بھی موسم گرما میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں ستر فیصد پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تھوڑی مقدار پیٹ بھی بھر دے گی اور یوں آپ کی غذائی ضروریات بھی پوری ہوں گی تاہم خیال رہے کہ دن بھر میں ایک پیالی یا ایک وقت سے زیادہ چاول نہ لیں کیونکہ یہ جسم کیلئے ضروری تمام غذائی اجزا فراہم نہیں کرتا ہے۔
موسم گرم : پانی کی کمی کو کیسے دور کیا جائے ؟
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں کمی کردی
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کراچی کے نجی اسپتال میں بچے کی پیدائش کے معاملے کا ڈراپ سین ہوگیا
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
مون سون بارشوں کے طاقتور سسٹم کی پاکستان میں انٹری! الرٹ جاری
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
محمد عباس نے لارڈز ٹیسٹ میں ایسا اعزاز اپنے نام کرلیا جو عمران خان، گلین میگراتھ یا ایلن ڈونلڈ بھی ن...
-
آسٹریلیا نے پاکستان کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی
-
21سالہ ماڈل کا گھر میں بیدردی سے قتل
-
اہلیہ حج پر ساتھ کیوں نہیں گئیں؟ وسیم اکرم نے بتا دیا



















































