اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

موسم گرم : پانی کی کمی کو کیسے دور کیا جائے ؟

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) گرمی کا زور ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور جون تک یوں ہی اضافہ دیکھنے کو ملتا رہے گا جس کے بعد دھوپ کی حدت تو قدرے کم ہوگی تاہم موسم برسات کے سبب گرمی اور پسینے کے اخراج کی شدت میں کوئی کمی واقع نہ ہوسکے گی۔ اس موسم میں جسم میں نمکیات اور پانی کی معمولی سی کمی بھی خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے کیونکہ پسینے کے سبب جسم سے پانی اور نمکیات کے اخراج کا عمل ویسے ہی تیز تر ہوتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے محض پانی پر انحصار کافی نہیں کیونکہ اول تو صرف پانی پینے اور پھر پیتے ہی رہنے کیلئے کوئی فرد تیار نہیں ہوتا ہے دوسرا جسم کو سادے پانی کے علاوہ کچھ نمکیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ غذائی اجزا سے تو پوری کی جاسکتی ہیں مگر سادہ پانی سے نہیں۔ اس لئے اپنی غذا میں بھی کچھ تبدیلیاں پیدا کریں، اس طرح آپ کے جسم سے پانی خارج ہونے کی مقدار بھی کم ہوگی، نیز جسم کو کچھ ضروری نمکیات بھی مل سکیں گے۔ ان اشیا میں سرفہرست سیب ہے۔ یوں تو سیب سارا سال ہی ریڑھیوں پر لدا دکھائی دیتا ہے تاہم اس موسم میں سیب کے استعمال پر خاص دھیان دیں، یہ جسم میں آئرن اور میگنیشیئم کی مقدار بھی بڑھانے میں مدد دے گا۔ دوپہر کو اگر کھانا کھانے کا موڈ نہ ہو تو دو سے تین سیب کھا لیں۔ اگر آپ کو سیب نہیں پسند ہیں تو ان کا رس نکالیں اور تازہ لیموں نچوڑ کے پی لیں۔ سیب میں وٹامن سی اور 86فیصد پانی ہوتا ہے۔
اسی طرح سلاد کے پتے بھی اس موسم میں مفید رہتے ہیں۔ سلاد کے پتے میں غذائی اجزاءکی مقدار بے حد کم ہوتی ہے جب کہ اس کا 96فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ وزن بھی نہیں بڑھنے دے گا اور آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کو بھی مستحکم رکھنے میں مددے گا۔ اس کے علاوہ اس میں پروٹین کی بڑی مقدار، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بھی بھاری مقدار میں موجود ہوتا ہے۔بروکلی کھانے کا رواج پاکستان میں زیادہ نہیں لیکن یقین مانیں کہ یہاں کے سخت موسم میں بروکلی بے حد مفید سبزی ثابت ہوسکتی ہے۔ عام گوبھی کے مقابلے میں زیادہ مہنگی بھی نہیں ، البتہ یہ عام ریڑھی والوں کے پاس دستیاب نہیں ہوتی ہے۔ اس میں تقریباً نوے فیصد پانی ہوتا ہے جبکہ اس کی اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات موسم گرما کی الرجیز سے بھی بچا سکتی ہیں۔دہی بھی موسم گرما میں استعمال کیلئے بے حد مفید ہے، اس میں نوے فیصد کے قریب پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود پروبائیوٹکس موسم گرما میں الرجیز کیخلاف قوت مدافعت دیتے ہیں جبکہ یہ پروٹین، وٹامن بی، کیلشیئم کیلئے بھی ایک مفید ذریعہ ہے۔ دہی کو لسی، شربت، رائتے سمیت متعدد اشکال میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس وجہ اس کے استعمال سے دل بھرنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا ہے۔اسی طرح ابلے ہوئے چاول بھی موسم گرما میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں ستر فیصد پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تھوڑی مقدار پیٹ بھی بھر دے گی اور یوں آپ کی غذائی ضروریات بھی پوری ہوں گی تاہم خیال رہے کہ دن بھر میں ایک پیالی یا ایک وقت سے زیادہ چاول نہ لیں کیونکہ یہ جسم کیلئے ضروری تمام غذائی اجزا فراہم نہیں کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…