بدھ‬‮ ، 15 اپریل‬‮ 2026 

موسم گرم : پانی کی کمی کو کیسے دور کیا جائے ؟

datetime 4  مئی‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک ) گرمی کا زور ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھ رہا ہے اور جون تک یوں ہی اضافہ دیکھنے کو ملتا رہے گا جس کے بعد دھوپ کی حدت تو قدرے کم ہوگی تاہم موسم برسات کے سبب گرمی اور پسینے کے اخراج کی شدت میں کوئی کمی واقع نہ ہوسکے گی۔ اس موسم میں جسم میں نمکیات اور پانی کی معمولی سی کمی بھی خطرناک نتائج کی حامل ہوسکتی ہے کیونکہ پسینے کے سبب جسم سے پانی اور نمکیات کے اخراج کا عمل ویسے ہی تیز تر ہوتا ہے۔ اس کمی کو پورا کرنے کیلئے محض پانی پر انحصار کافی نہیں کیونکہ اول تو صرف پانی پینے اور پھر پیتے ہی رہنے کیلئے کوئی فرد تیار نہیں ہوتا ہے دوسرا جسم کو سادے پانی کے علاوہ کچھ نمکیات کی بھی ضرورت ہوتی ہے جو کہ غذائی اجزا سے تو پوری کی جاسکتی ہیں مگر سادہ پانی سے نہیں۔ اس لئے اپنی غذا میں بھی کچھ تبدیلیاں پیدا کریں، اس طرح آپ کے جسم سے پانی خارج ہونے کی مقدار بھی کم ہوگی، نیز جسم کو کچھ ضروری نمکیات بھی مل سکیں گے۔ ان اشیا میں سرفہرست سیب ہے۔ یوں تو سیب سارا سال ہی ریڑھیوں پر لدا دکھائی دیتا ہے تاہم اس موسم میں سیب کے استعمال پر خاص دھیان دیں، یہ جسم میں آئرن اور میگنیشیئم کی مقدار بھی بڑھانے میں مدد دے گا۔ دوپہر کو اگر کھانا کھانے کا موڈ نہ ہو تو دو سے تین سیب کھا لیں۔ اگر آپ کو سیب نہیں پسند ہیں تو ان کا رس نکالیں اور تازہ لیموں نچوڑ کے پی لیں۔ سیب میں وٹامن سی اور 86فیصد پانی ہوتا ہے۔
اسی طرح سلاد کے پتے بھی اس موسم میں مفید رہتے ہیں۔ سلاد کے پتے میں غذائی اجزاءکی مقدار بے حد کم ہوتی ہے جب کہ اس کا 96فیصد پانی پر مشتمل ہوتا ہے۔ یہ وزن بھی نہیں بڑھنے دے گا اور آپ کے جسم میں پانی کی مقدار کو بھی مستحکم رکھنے میں مددے گا۔ اس کے علاوہ اس میں پروٹین کی بڑی مقدار، اومیگا تھری فیٹی ایسڈ بھی بھاری مقدار میں موجود ہوتا ہے۔بروکلی کھانے کا رواج پاکستان میں زیادہ نہیں لیکن یقین مانیں کہ یہاں کے سخت موسم میں بروکلی بے حد مفید سبزی ثابت ہوسکتی ہے۔ عام گوبھی کے مقابلے میں زیادہ مہنگی بھی نہیں ، البتہ یہ عام ریڑھی والوں کے پاس دستیاب نہیں ہوتی ہے۔ اس میں تقریباً نوے فیصد پانی ہوتا ہے جبکہ اس کی اینٹی انفلیمیٹری خصوصیات موسم گرما کی الرجیز سے بھی بچا سکتی ہیں۔دہی بھی موسم گرما میں استعمال کیلئے بے حد مفید ہے، اس میں نوے فیصد کے قریب پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں موجود پروبائیوٹکس موسم گرما میں الرجیز کیخلاف قوت مدافعت دیتے ہیں جبکہ یہ پروٹین، وٹامن بی، کیلشیئم کیلئے بھی ایک مفید ذریعہ ہے۔ دہی کو لسی، شربت، رائتے سمیت متعدد اشکال میں استعمال کیا جاسکتا ہے اور اس وجہ اس کے استعمال سے دل بھرنے کا اندیشہ بھی نہیں ہوتا ہے۔اسی طرح ابلے ہوئے چاول بھی موسم گرما میں پانی کی ضروریات پوری کرنے کیلئے اہم ذریعہ ثابت ہوسکتے ہیں کیونکہ اس میں ستر فیصد پانی ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تھوڑی مقدار پیٹ بھی بھر دے گی اور یوں آپ کی غذائی ضروریات بھی پوری ہوں گی تاہم خیال رہے کہ دن بھر میں ایک پیالی یا ایک وقت سے زیادہ چاول نہ لیں کیونکہ یہ جسم کیلئے ضروری تمام غذائی اجزا فراہم نہیں کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایران کی سب سے بڑی کام یابی


وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…