جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

احتساب عدالت نے نیشنل بینک کے وائس پریذیڈنٹ عثمان سعید کو نیب کے حوالے کر دیا، 13 میگا بزنس گروپس مالکان اور بینک افسران کی ملی بھگت سے حکومتی خزانے کو کتنے ارب کا نقصان پہنچایا؟

datetime 18  مئی‬‮  2018 |

لاہور(آئی این پی) احتساب عدالت نے نیشنل بینک میں اربوں روپے کے غبن میں ملوث وائس پریڈیڈنٹ عثمان سعید کو 28مئی تک جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ۔نیب لاہور کی جانب سے ملزم عثمان سعید کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا اور بتایا گیا کہ

نیب لاہور کی جانب سے نیشنل بینک مین برانچ لاہور فارن ایکسچینج ڈیپارٹمنٹ میں مبینہ اربوں روپے کی خردبرد پر تحقیقات جاری ہیں اسی سلسل میں مرکزی ملزم وائس پریزیڈنٹ عثمان سعید کو گرفتار کیا گیا ، ابتدائی تحقیقات کی مطابق 13 میگا بزنس گروپس مالکان اور بینک افسران کی ملی بھگت سے حکومتی خزانے کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا، ملزمان کی آپس کی ملی بھگت سے لیٹر آف کریڈٹ کر غلط اعدادوشمار اور درآمد شدہ مال بغیر ادائیگی بینک سے ریلیز کرواتے رہے، ملزم عثمان سعید مین برانچ فارن ایکسچینج ڈیپارٹمنٹ میں بطور ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ تعینات تھا، ملزم کے ان اقدامات سے حکومتی خزانے کواربوں روپے کا نقصان پہنچ رہا تھا، تحقیقات کے دوران ملزم کی جانب سے لگ بھگ 2 سے 3 ارب روپے کی خردبرد کے شواہد حاصل ۔ نیب لاہور مزید بینک افسران کے ملوث ہونے اور متعلقہ کمپنیوں کے حوالے سے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہی لہٰذا ملزم سے تفیش کے لئے جسمانی ریمانڈ دیا جائے ۔ جس پر احتساب عدالت نے ملزم عثمان سعید کا جسمانی ریمانڈ دیتے ہوئے 28 مئی کو دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…