جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف کے ’’مجھے کیوں نکالا ‘‘کے بعد پیپلزپارٹی کے سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی میدان میں آگئے،عدالتوں میں کس چیز کی سزا دی جا رہی ہے؟اگر یہ جرم ہے تو ہزار بار کروں گا، دو ٹوک اعلان کر دیا

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

گوجرخان (این این آئی ) سابق وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا ہے کہ آج بھی گوجرخان کے ہزاروں نوجوانوں کو نوکریاں دینے کی سزا عدالتوں میں پیش ہو کر بھگت رہا ہوں اگر اپنے حلقے کے نوجوانوں کو نوکریاں دینا اور روزگار دلوانا جرم ہے تو یہ جرم میں بار بار کرتا رہوں گا بے شک مجھے اس جرم کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا جائے ، ہمیشہ گوجرخان کے مفادات کو اپنے سیاسی مفادات پر ترجیح دی۔

پارٹی سیاست سے بالاتر ہو کر عوام کی خدمت کی کوئی منافقت نہیں کی سچائی کے راستے پر چلنے والا ہوں ان خیالات کا اظہار انہوں نے میڈیا نمائندوں سے خصوصی گفتگو میں کیا ، انہوں نے کہا سیاست کو عبادت سمجھتے ہیں پیپلز پارٹی غریب عوام کی نمائند ہ جماعت ہے ، پارٹی قائد ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اصولوں سے مفاہمت نہیں کی جس کے جرم میں انہیں پھانسی دی گئی ، شہید بھٹو کے اسی فلسفے پر محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی جام شہادت نوش کیا، اب پارٹی قائدین کے اس ادھورے مشن کو قائدبلاول بھٹو زرداری اور آصف علی زرداری کی قیادت میں پایہ تکمیل تک پہنچائیں گے ، پارٹی ہر لحاظ سے منظم اور متحد ہے ، 2018ء کے عام انتخابات میں عوامی طاقت سے دوبارہ برسراقتدار آئیں گے اور پاکستان مخالف قوتوں کو عبرتناک شکست دیں گے ، راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ اپنے دوراقتدار میں بے شمار ترقیاتی منصوبوں کا آغاز کیا ، جن پر مخالفین اپنے نام کی تختیاں لگا کر سستی شہرت حاصل کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں ، عوام ان دھوکے بازوں کو بخوبی پہنچانتے ہیں اور آئندہ کسی دھوکے میں نہیں آئیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…