جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

حکومت ختم نبوت قانون میں ترمیم کے معاملے پر راجہ ظفر الحق کی کمیٹی کی رپورٹ اس لئے شائع نہیں کررہی کیونکہ ۔۔۔! انتہائی سنگین الزام عائد کردیاگیا

datetime 16  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد/لاہور(این این آئی ) پاکستان مسلم لیگ کے صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ شائع نہ کرنا حکومتی بدنیتی کا ثبوت ہے۔

وہ اسلام آباد میں اپنی رہائش گاہ پر دربار عالیہ بھنگالی شریف گوجر خان کے سجادہ نشین پیر سید مخدوم عباس محمد شاہ سے ملاقات کے دوران گفتگو کر رہے تھے۔ اس موقع پر مرکزی سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ، چودھری وجاہت حسین، محمد بشارت راجہ، راجہ ناصر اور ساجد شاہ بھی موجود تھے۔ پیر عباس محمد شاہ نے مسلم لیگی قائدین کو ختم نبوت سے متعلق حکومتی روئیے پر عوام اور مذہبی جماعتوں میں پائی جانے والی بے چینی اور تحفظات سے آگاہ کیا اور اس پر تفصیل سے تبادلہ خیال کیا۔ چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویزالٰہی نے مزید کہا کہ پاکستان مسلم لیگ ختم نبوت کے معاملہ پر دینی حلقوں اور عوامی جذبات کا احترام کرتی ہے اور اس کے جذبات و احساسات بھی وہی ہیں اس لیے وہ ان کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جس طرح ڈان لیکس اور دیگر معاملات پر اپنی بدنیتی کا کھل کر اعتراف کر رہے ہیں وہ اس معاملہ پر اپنی سازش بے نقاب ہونے سے اب تک کیوں خوفزدہ ہیں اور ن لیگ کے رہنما راجہ ظفر الحق کی کمیٹی کی رپورٹ اس لئے شائع نہیں کر رہے کیونکہ اس سے ان کی ختم نبوت کے معاملہ پر دروغ گوئی اور بدنیتی سامنے آ جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…