جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

قومی اسمبلی میں بجٹ بحث کے دوران پارلیمانی تاریخ کا انوکھا واقعہ،سپیکر ایازصادق نے قائد ایوان شاہد خاقان کے معنی خیزالفاظ کاروائی سے حذف کروا دئیے

datetime 15  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن) قومی اسمبلی میں بجٹ کی منظوری کے عمل کے دوران پارلیمانی تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ پیش آیا کہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے قائد ایوان یعنی وزیرا عظم شاہد خاقان عباسی کے اپوزیشن اراکین بارے بولے گئے پیٹ درد کے الفاظ کاروائی سے حذف کروا دئیے پارلیمانی ذرائع کا کہنا ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ سپیکر نے وزیر اعظم کے ریمارکس حذف کروائے ہوں جب نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق اپوزیشن کے نقطہ اعتراضات

کا وزیر اعظم جواب دے رہے تھے تو اپنے قائد کی محبت میں کہہ گئے کہ جس جس کے پیٹ میں درد ہے وہ بات کر لے میں جواب دے کر سب کی تسلی کروادوں گا پیٹ درد کے الفاظ پر اپوزیشن نے احتجاج کیا تو وزیر اعظم نے کہا کہ میں نے کسی کا نام تو نہیں لیا اس پر سپیکر نے کہا کہ وہ پیٹ درد کے الفاظ حذف کرتے ہیں مگر اس کے باوجود وزیرا عظم اپنے بیان پر قائم رہے اور یہ بھی پہلی بار ہوا کہ سپیکر کو بار بار وزیرا عظم کو ٹوکنا پڑا تاکہ ماحول خراب نہ ہو اور حکومت بجٹ پاس کروا سکے مگر سپیکر کو اس وقت سبکی ہوئی جب وزیر اعظم نے کہہ دیا کہ بجٹ پاس ہوتا رہے گا مگر نواز شریف کے معاملے پر جو بھی بولنا چاہتا ہے اسے بولنے دیں میں سب کی تسلی کروادوں گا اس صورت حال میں سپیکر نے خاموش ہونے میں ہی عافیت جانی بعض وزراء4 نے وزیر اعظم کی نشست پر آکر انھیں سمجھایا تو شاہد خاقان عباسی بیٹھ گئے لیکن اس وقت تک اپوزیشن ان کے ریمارکس پر احتجاجاایوان سے واک آؤٹ کر گئی تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…