منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی بینک کا 200 اور 2000 کے گندے،پھٹے، پرانے نوٹ تبدیل نہ کرنے کا اعلان

datetime 15  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی(این این آئی)بھارت میں کرنسی نوٹوں کی تبدیلی کی ہولناکیاں تاحال ختم نہیں ہوسکی ہیں اوراس کے اثرات سے بھارتی عوام اب بھی اذیت اور مشکلات کا شکار ہیں ۔نومبر2016میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے اچانک کرنسی نوٹ ختم کرنے اور ان کی تبدیلی کے اعلان کے بعد پورے بھارت میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے ۔بھارتی ٹی وی کے مطابق بھارتی حکومت کی اس پالیسی سے بھارت

میں کئی بحران بھی سامنے آئے جن میں ملک کے کئی علاقے غذائی اجناس کے بحران کا شکار ہوئے،بنیادی اشیائے ضروریہ کی قلت شدید سے شدید تر ہو گئی ۔کرنسی نوٹوں کو تبدیل کرانے کا حکم صادر ہوتے ہی بھارتی بینکوں کے باہر طویل قطاریں لگ گئیں اور عوام اپنے سارے کام چھوڑ کر اس امر میں مشغول ہوگئے۔طویل قطاروں میں لگے عوام آپس میں بھی گتھم گتھا ہو ئے اور متعدد افراد ان لڑائی جھگڑوں میں اپنی جانیں گنواں بیٹھے۔اب بھارتی عوام کی نئی مشکل یہ ہے کہ بھارت کے مرکزی بینک نے دو سو اور دو ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کو تبدیل کرنے سے انکار کر دیا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں گندے،کٹے،پھٹے اور پرانے نوٹوں کی تبدیلی آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 28کے تحت ہوتی ہے لیکن 200 اور 2000 کے گندے،پھٹے، پرانے نوٹ آر بی آئی تبدیل نہیں کرے گی۔ایسے نوٹوں کی تبدیلی کا معاملہ آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 28کے تحت آتا ہے، اس ایکٹ میں 5، 10، 50، 100، 500، 1000، 5000 اور 10000 روپے کے نوٹوں کی تبدیلی کا تذکرہ موجود ہے لیکن 200 اور 2000 کے نوٹوں کا ذکر نہیں ہے اور نومبر 2016 ء کے بعد 200 اور 2000 کے نوٹ مارکیٹ میں آنے کے بعد آر بی آئی ایکٹ کے سیکشن 28میں ترمیم نہیں کی گئی۔اعداد وشمار کے مطابق بھارت میں دو ہزار روپے کے کرنسی نوٹوں کی زیر گردش تعداد71لاکھ کروڑ روپے ہے۔

جس میں خراب نوٹوں کی بھی خاصی بڑی تعداد ہے لیکن ضابطوں میں ترمیم نہ ہونے کے باعث ابھی تک انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔بینکوں کا کہنا تھا کہ ان کے پاس 200اور 2000 روپے کے کچھ گندے اور خراب نو ٹ موجود ہیں لیکن ضابطوں میں ترمیم نہ ہونے کے باعث ابھی تک انہیں تبدیل نہیں کیا جاسکا۔ دوسری جانب آر بی آئی کا کہنا تھا کہ 2017 ء میں ہی ضابطے میں ضروری تبدیلی سے متعلق وزارت مالیات کو خط ارسال کیا گیا تھا لیکن تاحال حکومت کی جانب سیکوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…