جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نواز شریف کا متنازعہ بیان،ملکی معیشت کو زبردست دھچکا لگ گیا اربوں ڈوب گئے۔۔سرمایہ کاروں نے سر پکڑ لئے

datetime 14  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نواز شریف کے ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان کے بعد قومی سلامتی کمیٹی اجلاس پاک فوج کی تجویز پر وزیراعظم شاہد خاقان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس کے بعد اعلامیہ میں نواز شریف کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن قرار دیا گیا ہے۔ نواز شریف کے بیان کے بعد جہاں سیاسی اور بین الاقوامی سیاست میں بھونچال کی سی کیفیت دیکھنے میں آرہی ہے

وہیں پاکستان سٹاک ایکسچینج میں بھی مندی دیکھنے میں آئی ہے اور 100انڈیکس میں 6پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ اسٹاک ایکسچینج میں مندی کے رجحان پر سرمایہ کار شدید پریشان ہیں۔ واضح رہے کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں نواز شریف کے بیان پر غور وحوض کے بعد جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کا بیان عناد کا اظہار، کو غلط اور گمراہ کن ہے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ بیان مکمل طور پر غلط اور مس لیڈنگ ہے۔شرکا نے 12 مئی کو شائع ہونے والے بیان کو متفقہ طور پر غلط اور گمراہ کُن قرار دیا۔ اعلامیہ میں کہا گیا کہ افسوس اور بد قسمتی ہے کہ حقائق کو شکایت کے انداز میں غلط شائع کیا گیا ۔ اس اخباری بیان میں حقائق اور ٹھوس شواہد کو نظر انداز کیا گیا۔۔ممبئی حملوں کی تحقیقات مکمل نہ ہونے کا ذمہ دار پاکستان نہیں بھارت ہے۔بھارت کی وجہ سے ممبئی حملہ کیس میں تاخیر ہوئی۔ ممبئی حملوں سے متعلق بھارت نے تحقیقات کے لیے شواہد پیش نہیں کیے۔ بھارت نے کسی موقع پر پاکستان سے تعاون نہیں کیا۔خیال رہے کہ پاکستان کی معیشت اس وقت ویسے ہی بحران کی زد میں ہے جس کی بڑی وجہ ادائیگیوں کی مد میں زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی بیان کی جاتی ہے۔ دوسری جانب وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بھی اپنی پوسٹ بجٹ تقریر میں اس جانب اشارہ کیا تھا تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایک دوست ملک سے ایک ارب ڈالر قرض مل گیا ہے

جس کے بعد آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ پاکستانی معیشت کی زبوں حالی، سیاسی افراتفری، عام انتخابات اور سرحدوں پر بڑھتے ہوئے دبائو کے علاوہ بین الاقوامی حالات میں پاکستان کی کمزور پوزیشن کو اگر مد نظر رکھا جائے تو ایسے وقت میں نواز شریف کا ممبئی حملوں سے متعلق متنازعہ بیان پاکستان کیلئے کار خیر نہیں بلکہ کار شر قرار دیاجا رہا ہے۔ اس حوالے سے دفاعی تجزیہ کاروں اور سیاسی حلقوں کے ساتھ صحافتی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے جس کا انہوں نے مختلف پروگراموں، کالموں اور بیانات میں برملا اظہار کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…