اسلام آباد(نیوز ڈیسک)اقوام متحدہ نے نیپال کی حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ زلزلہ متاثرین کے لیے آنے والے امدادی سامان کے لیے اپنے کسٹم قوانین میں نرمی کرے۔اقوام متحدہ میں فلاحی کاموں کی سربراہ ویلری آموس کے مطابق نیپالی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ امدادی سامان کی کسٹم کلیئرنس کو تیز کرے۔ نیپال میں ایک ہفتے قبل آنے والے زلزلے کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد سات ہزار سے تجا وز کر گئی ہے جبکہ بڑی تعداد میں متاثرین امداد سے محروم ہیں۔بین لاقوامی برادری کی جانب سے بھجوائے جانے والی امداد کی ایک بڑی مقدار کھٹمنڈو ایئر پورٹ پر کسٹم کلیئرنس نہ ہونے کی وجہ سے پھنسی ہوئی ہے۔ویلری آموس کا کہنا ہے کہ انھوں نے نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالا کو یاد کرایا ہے کہ انھوں نے سال 2007 میں اقوام متحدہ سے کسی آفت کی صورت میں کسٹم کلیئرنس کو سادہ اور تیز کرنے کا معاہدہ کیا تھا۔ویلری آموس کے مطابق وزیراعظم نے اس معاملے کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے اور امید ہے کہ اب انتظامی معاملات میں بہتری آئے گی۔نیپال میں اقوام متحدہ کے نمائندے جیمی میک گولڈریک نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیپالی حکومت کو عام حالات کے لیے بنایے گئے کسٹم قواعد و ضوابط کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے۔نیپال کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرشاد کے مطابق خیموں اور ترپالوں پر عائد درآمدی ٹیکس ختم کر دیا گیا ہے۔انھوں نے کہا کہ بیرون ملک سے آنے والے تمام سامان کی جانچ پڑتال کرنا ضروری ہے۔نیپال میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے انتظامی شعبے کے ڈائریکٹر رمیشور کے مطابق اب بھی بڑی تعداد میں متاثرین امداد یا ہیلی کاپٹروں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کے منتظر ہیں۔انھوں نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ’ کئی علاقوں میں لوگوں کو امداد نہیں مل سکی ہے اور قدرتی بات ہے کہ وہ اس سے ناخوش ہیں۔‘دوسری جانب نیپالی حکومت نے بیرون ملک سے آنے والی امداد پر بھی تنقید کی ہے۔وزیرِ خزانہ رام شرن کا کہنا ہے کہ’ ہمیں ٹونا مچھلی اور میونیز جیسی امدادی اشیا مل رہی ہیں اور یہ کس کام کی ہیں، ہمیں اناج، نمک اور چینی کی اشد ضرورت ہے۔‘زلزلے کے ایک ہفتے بعد امدادی کارروائیوں میں ملبے تلے موجود افراد میں سے کسی کے زندہ بچ جانے کی امیدیں بھی معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔وزارتِ داخلہ کے ترجمان لکشمن پرساد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں ملبے تلے سے زندہ افراد کو تلاش کرنے کی امید باقی نہیں رہی۔’ہم ہر ممکن طور پر بچاو¿ اور امداد کا کام کر رہے ہیں مگر میرے خیال سے ملبے تلے مزید کسی کے زندہ بچ جانے کا امکان نہیں ہے۔‘بی بی سی کےنامہ نگار سنجوئے مجندر کے مطابق اب بھی ملبے تلے سے لاشوں کو نکالنے کا سلسلہ جاری ہے۔ امدادی ٹیمیں دوردراز کے علاقوں سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہی ہیں لیکن اب بھی بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں تک رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔
نیپال امدادی سامان کے لیے اپنے کسٹم قوانین میں نرمی کرے،اقوام متحدہ
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)
-
سعودی عرب میں عید کے چاند کے حوالے سے اہم اعلان
-
پاکستان کی معروف ماہرِ علمِ نجوم سامعہ خان نے ایک مرتبہ پھر عمران خان کے بارے بڑی پیشگوئی کر دی
-
وزیراعظم کا سرکاری ملازمین کے لیے بڑا اعلان
-
سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای ایران میں نہیں ہیں ، انہیں کس ملک میں کیوں اور کس حالت میں منتقل کیا گیا...
-
افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف
-
وزیراعظم نے عید الفطر کی تعطیلات کی منظوری دے دی
-
بیوی کی رضا مندی نہ ہونے پر شوہر کے خلاف بد فعلی کا مقدمہ درج
-
سعودی عرب میں جسم فروشی میں ملوث 3 خواتین کو پاکستان پہنچنے پر گرفتار کر لیا گیا
-
راولپنڈی: والد کے قُل کی دعا کے دوران جھگڑا، بیٹا قتل
-
صدر کے ہوٹلوں پر چھاپے، نائٹ کلبز کے لیے اسمگل ہونے والی 32 خواتین بازیاب
-
سونا مزید سستا ہو گیا
-
اسٹیٹ بینک نے ملک بھر میں نئے کرنسی نوٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کر دیا
-
معروف سٹیج اداکارہ دیدار کے شوہر کو گرفتار کر لیا گیا



















































