جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

نئے ماڈل کی سستی گاڑیاں، قیمت کم از کم تین لاکھ روپے، سینکڑوں کی تعداد میں یہ گاڑیاں پاکستان کے کس علاقے میں دھڑا دھڑ فروخت کی جا رہی ہیں؟ حیرت انگیز انکشافات

datetime 12  مئی‬‮  2018 |

کوئٹہ(نیوز ڈیسک) کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں غیر قانونی طور پر سرحد پار سے لائی جانے والی گاڑیوں کی بھر مار، اندرون ملک بھی اسمگل کی جا رہی ہیں، دوسری جانب کسٹم کی نان پیڈ گاڑیوں کے خلاف بھر پور کارروائی میں سینکڑوں گاڑیاں پکڑی گئی،کوئٹہ کے شو رومز پر سرعام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ان دنوں بھی عروج پر ہے۔ اندورون صوبہ سرحد پار سے اسمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کا استعمال بھی جاری ہے۔

ہر ماڈل کی لش پش عام گاڑی 3 سے لیکر 15 لاکھ تک باآسانی مل جاتی ہے۔ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ کے مطابق یہ گاڑیاں افغانستان سے برراستہ قلعہ عبداللہ کے پہاڑی علاقوں سے لائی جاتی ہیں۔ غیر رجسٹرڈ گاڑیاں فروخت اور چلانے والوں کا کہنا ہے کہ ماضی کی طرح اب بھی غیر قانونی طور پر لائی جانے والی گاڑیوں کے لئے حکومت کو ایمنسٹی سیکم کا اعلان کرنا چاہیے۔اسمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کی روک تھام کے لئے کسٹم کا عملہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ ملکر مؤثر کارروائی میں مصروف ہے، کسٹم حکام کاکہنا ہے کہ وہ گاڑیوں سمیت ہر قسم کی اسمگلنگ روکنے کے لئے تمام ممکنہ اقدام اٹھا رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نان کسٹم پیڈ گاڑیاں بڑی تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر ملک کے دیگر حصوں تک گارنٹی کے ساتھ پہنچانے کا کاروبار بھی عروج پر ہے۔ اس حوالے سے کسٹم حکام نے کئی سمگل شدہ گاڑیاں ضبط بھی کی ہیں ، کسٹم حکام اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کے اس غیر قانونی دھندے کو روکنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔  کوئٹہ سمیت صوبے کے بیشتر علاقوں میں غیر قانونی طور پر سرحد پار سے لائی جانے والی گاڑیوں کی بھر مار، اندرون ملک بھی اسمگل کی جا رہی ہیں، دوسری جانب کسٹم کی نان پیڈ گاڑیوں کے خلاف بھر پور کارروائی میں سینکڑوں گاڑیاں پکڑی گئی،کوئٹہ کے شو رومز پر سرعام نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کی خرید و فروخت کا کاروبار ان دنوں بھی عروج پر ہے۔ اندورون صوبہ سرحد پار سے اسمگل ہو کر آنے والی گاڑیوں کا استعمال بھی جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…