جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

بدین میں مُردوں کو نہلانے کے لیے بھی پانی نہیں ہے، یہاں کے بچے بغیر بجلی اور پانی کے سو رہے ہیں، نقطہ اعتراض پر گفتگو

datetime 10  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد( آن لائن )سابق سپیکر قومی اسمبلی و پیپلز پارٹی کی رہنما ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا ہے کہ بدین میں مردوں(وفات پانیوالوں ) کو نہلانے کے لئے پانی نہیں ہے۔ کاش وزیراعظم پورے پاکستان کے وزیراعظم ہوتے اور وزیر اعلیٰ پورے صوبے کے وزیر اعلیٰ ہوتے ۔

صوبوں کو وسائل برابر تقسیم نہیں کئے جا رہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کے روز قومی اسمبلی کے اجلاس میں نقطہ اعتراض پر گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر فہمیدہ مرزا نے کہا کہ عوام طاقت کا سر چشمہ ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا موجودہ بجٹ میں این ایف سی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔ 1991کا معاہدہ کے تحت صوبوں کو پانی نہیں دیا جا رہا ہے۔ بدین لوئیر سندھ کے لوگ احتجاج کر رہے ہیں۔ بدین نے بچے بغیر بجلی اور پانی کے سو رہے ہیں آنے والی جنگیں پانی پر ہونی ہیں ۔ لیکن تمام صوبوں کو وسائل سے برابر تقسیم ہونی چاہیئے۔ کاش کوئی وزیراعظم پورے ملک کا ہوتا کاش کوزیراعلیٰ پورے صوبے کا ہوتا۔ بدین میں مردوں کو نہلانے کا پانی نہیں ہے جبکہ اپر سندھ میں پانی جا رہاہے۔ پانی اگر کمی ہے تو یہ کمی سب صوبوں کو برابر ہونی چاہیئے۔ ہماری مدت ختم ہو رہی ہے میں تمام لوگوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ بدین کے لوگوں کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں میں ان کے لئے اس ایوان میں ان کے حق میں آواز اٹھاتی رہوں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…