منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ٹرمپ کے فیصلے پر ایرانی پارلیمنٹ کا اجلاس،ایوان میں ہی ایسا کام کردیاگیا کہ امریکیوں کو آگ لگ جائے گی،دھماکہ خیزاعلان

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

بیروت (مانیٹرنگ ڈیسک) ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے کہاہے کہ امریکی صدر کا 2015ء میں طے پائے گئے جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے کا فیصلہ اس سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد موجودہ صورت حال کی روشنی میں ایران جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کا پابند نہیں۔ یہ صورت حال امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔

میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ آیا معاہدے پر دستخط کرنے والے یورپی ممالک اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ ٹرمپ طاقت کے سوا کوئی زبان نہیں سمجھتے۔پارلیمنٹ کے اجلاس کے آغاز پر ارکان پارلیمنٹ نے امریکی پرچم اور جوہری معاہدے کی علامتی کاپی کو نذر آتش کیا۔ ارکان پارلیمنٹ نے امریکا مردہ باد کے نعرے بھی لگائے۔دریں اثناء امریکی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ وہ ایران پر عاید کردہ اقتصادی پابندیوں میں نرمی کے 180 دن بعد ان پابندیوں کا اعادہ کر رہا ہے۔ دوبارہ عاید کی جانے والی پابندیوں میں تیل سیکٹر اور ایران کے مرکزی بنک کے ساتھ لین دین کی پابندی بھی شامل ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق امریکی وزارت خزانہ کی ویب سائیٹ پر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ایران پر عاید کردہ پابندیوں میں 180 دن تک نرمی کی گئی تھی مگرایران نے اس نرمی کا غلط فائدہ اٹھایا ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ ایران کے ساتھ طیاروں کی درآمدات، معدنیات کی تجارت، ارو دیگر شعبوں میں عاید کردہ پابندیوں کو بحال کر رہا ہے۔  ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر علی لاریجانی نے کہاہے کہ امریکی صدر کا 2015ء میں طے پائے گئے جوہری معاہدے سے دست بردار ہونے کا فیصلہ اس سمجھوتے کی خلاف ورزی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ ٹرمپ کے فیصلے کے بعد موجودہ صورت حال کی روشنی میں ایران جوہری معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پاسداری کا پابند نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…