جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

پانی کے مزید 8 برانڈز انسانی استعمال کیلئے غیر محفوظ قرار،ان کمپنیوں کا پانی پینے سے ہیضہ، ڈائریا، پیچش، ہیپاٹائٹس، ٹائیفائیڈ ہو سکتا ہے،انتباہ جاری

datetime 9  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد(سی پی پی) پاکستان کونسل فار ریسرچ ان واٹر ریسورسز ( پی سی آر ڈبلیو آر)کی جانب سے بوتلوں کے پانی کے مزید 8 برانڈز کو انسانی استعمال کے لیے غیر محفوظ قرار دے دیا۔پی سی آر ڈبلیو آر رپورٹ کے مطابق جنوری سے مارچ کے دوران اسلام آباد، کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ، راولپنڈی، ملتان، بہاولپور اور ٹنڈو جام سے 110 پانی کے برانڈز کے نمونے لیے گئے اور ان کا پاکستان اسٹینڈرز اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی

( پی ایس کیو سی اے ) کی حدود کے ساتھ تجزیاتی موازنہ کیا گیا، رپورٹ کے مطابق انسانی استعمال کیلئے غیر محفوظ8 پانی کے برانڈز میں ایڈلین پریمیئم، ایکوا فائن، پیور ایکوا، لیوون، زیم، ایکوا گولڈ، پیور 18 اور آب نور شامل ہیں، جو کیمیائی اور حیاتیاتی آلودگی کے باعث غیر محفوظ پایا گیا۔ان غیر محفوظ شدہ برانڈز میں ایکوا فائن میں آرسینک کی مقدار سب سے زیادہ پائی گئی اور یہ پی ایس کیو سی اے کے پانی کے معیار کے مقابلے میں 10 کے بجائے 20 حصے فی ارب ( پی پی بی ) پائی گئی۔رپورٹ میں پی سی آر ڈبلیو آر کی جانب سے خبردار کیا گیا کہ پانی میں آرسینک کی اتنی زیادہ مقدار مختلف جلد کی بیماریوں، ذیابیطس، گردوں کے امراض، ذہنی تنا، امراض قلب، پیدائشی خامیاں، سیا پاں کی بیماریاں اور مختلف اقسام کے کینسر سمیت دیگر بیماریوں کا باعث بن سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق 4 برانڈز زیم، ایکوا گولڈ، پیور 18 اور آب نور حیاتیاتی آلودگی کے باعث غیر محفوظ پائے گئے اور اس کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیجش، ہیپاٹائٹس، ٹائیفائڈ اور دیگر بیماریاں ہوسکتی ہیں۔ایلڈن پریمیئم، پیور ایکوا اور لیوون کے غیر محفوظ ہونے کی وجہ اس میں سوڈیم رینگنگ کی مقدار پی ایس کیو سی اے کے معیار کے مطابق 50 کے بجائے 60-57 پارٹس پر ملین( پی پی ایم )تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…