ہفتہ‬‮ ، 23 مئی‬‮‬‮ 2026 

ایم کیو ایم کیخلاف بولنے کی سزا یا کچھ اور۔۔۔ایس ایس پی راﺅ انوار کے قافلے پر بم حملہ

datetime 2  مئی‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک)کراچی میں سابق ایس ایس پی ملیر را ﺅانوار کے قافلے پر حملہ،جوابی کارروائی میں حملہ فرارہوگئے تاہم تعاقب کرکے5حملہ آورزکو ہلاک کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق سابق ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار بن قاسم پولیس اسٹیشن سے قائد آباد پولیس اسٹیشن کی جانب روانہ ہوئے جہاں سفید کار میں سوار ملزمان نے ان کا تعاقب کیا اور لنک روڈ کے قریب ان کی گاڑی پر فائرنگ کی اور دستی بم پھینکا تاہم ایس ایس پی راﺅ انوار بکتر بند گاڑی میں سوار تھے جس کے باعث وہ مکمل طور پر محفوظ رہے۔ایس ایس پی کے قافلے پر حملے کے بعد ان کی سکیورٹی پر مامور پولیس اہلکاروں نے ملزمان پر جوابی فائرنگ کی جس کے بعد حملہ آور لنک روڈ کی جانب فرار ہوگئے ۔حملے کے بعد پولیس کی بھاری نفری کو طلب کیا گیا جس نے لنک روڈ کے اطراف سرچ آپریشن کیا۔ آپریشن کے دوران موٹرسائیکل پر سوار5حملہ آور مارے گئے۔ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم تحریک طالبان سے بتایا جاتا ہے۔سابق ایس ایس پی ملیر راو¿ انوار نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردوں نے لنک روڈ پر دونوں اطراف سے فائرنگ کی لیکن پورا اسکواڈ محفوظ رہا۔ حملے کے بعد مزید نفری طلب کی گئی اور لنک روڈ کے اطراف سرچ آپریشن کیا گیا۔ انہوںنے کہا کہ لنک روڈ کی طرف کچھ حملہ آوروں کو موٹرسائیکل پر فرار ہوتے دیکھا گیا جس پر ان کا تعاقب کیا گیا۔ تعاقب کے بعد 5 حملہ آور مارے گئے۔ حملہ آوروں کا تعلق کالعدم تنظیم سے لگتا ہے۔راﺅ انوار نے کہاکہ ان پر حملہ اس وقت کیا گیا جب وہ ڈی ایس پی عبدالفتح محمد پر حملے کی جگہ معائنہ کرنے جا رہے تھے۔ حملہ آور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔انہوں نے کہاکہ پولیس کی جوابی فائرنگ سے مارے جانے والا ایک حملہ آور حلیے سے کالعدم تحریک طالبان کا کارندہ لگتا ہے۔واضح رہے کہ گزشتہ دنوں ایس ایس پی را ﺅانوار نے 2 دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا جس میں انہوں نے دہشت گردوں کا تعلق ایم کیوایم سے ظاہر کرتے ہوئے ان کے بھارتی ایجنسی را سے تربیت یافتہ ہونے کا دعوی کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پانچ سو ڈالر


وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…