جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بھارت کی قومی ایئرلائن ’’ایئر انڈیا‘‘ کی فروخت کی پیشکش پر بھارتیوں کو شدید شرمندگی کا سامنا،بھرپور کوششوں کے بعد کتنے خریدار سامنے آئے؟حیرت انگیز صورتحال

datetime 7  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی(مانیٹرنگ ڈیسک) بھارت کی انتہائی حد تک مقروض قومی ایئر لائن ایئر انڈیا کے لیے ملکی حکومت کو تاحال کوئی خریدار نہیں ملا۔ ایئر انڈیا کے ذمے قرضوں کی مالیت پانچ ارب ڈالر سے زائد ہے۔ بھارتی حکومت اس کے 76 فیصد حصص فروخت کرنا چاہتی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی کوشش ہے کہ اس قومی فضائی کمپنی کے تین چوتھائی سے زائد شیئرز فروخت کر کے کوئی ایسی صورت پیدا کر

دی جائے کہ ایئر انڈیا کو دوبارہ ایک تجارتی ایئر لائن کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جا سکے۔تاہم اب تک کوششیں اس لیے ناکام ہوتی دکھائی دے رہی ہیں کہ اس ایئر لائن کے ملکیتی حقوق فروخت کرنے کے لیے طے کردہ میعاد ختم ہونے کو ہے اور ابھی تک کسی بھی کاروباری یا سرمایہ کاری ادارے نے اس فضائی کمپنی کو خریدنے میں کوئی دلچسپی ظاہر نہیں کی۔بھارت میں شہری ہوا بازی کے شعبے پر قریب سے نظر رکھنے والے ماہر امرت پانڈورنگی نے بتایاکہ اس کمپنی کے تین چوتھائی سے زائد ملکیتی حقوق کی فروخت کے لیے حکومت نے جو شرائط رکھی ہیں، ان میں کمپنی کے ذمے ہوش ربا قرضوں اور ملازمین کی تنخواہوں سمیت اخراجات سے متعلق کئی شقیں ایسی ہیں، جو کسی بھی ممکنہ خریدار کے آگے بڑھنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔ بھارت کی انتہائی حد تک مقروض قومی ایئر لائن ایئر انڈیا کے لیے ملکی حکومت کو تاحال کوئی خریدار نہیں ملا۔ ایئر انڈیا کے ذمے قرضوں کی مالیت پانچ ارب ڈالر سے زائد ہے۔ بھارتی حکومت اس کے 76 فیصد حصص فروخت کرنا چاہتی ہے۔بھارتی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کی کوشش ہے کہ اس قومی فضائی کمپنی کے تین چوتھائی سے زائد شیئرز فروخت کر کے کوئی ایسی صورت پیدا کر دی جائے کہ ایئر انڈیا کو دوبارہ ایک تجارتی ایئر لائن کے طور پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقابلے کے قابل بنایا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…