لاہور( این این آئی) مسلم لیگ (ن) کوسب سے بڑا جھٹکا،ایک ساتھ 6موجودہ ارکان اسمبلی اور 2سابق ارکان اسمبلی نے پارٹی چھوڑنے کا اعلان کردیا، کس جماعت میں شامل ہوگئے؟دھماکہ خیز اعلان، مسلم لیگ (ن) کے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے کئی اراکین اسمبلی اور رہنما جنوبی پنجاب صوبہ محاذ میں شامل ہوگئے ۔سابق رکن قومی اسمبلی مینا لغاری، مسلم لیگ (ن) کے اراکین پنجاب اسمبلی مرتضی رحیم کھر، قیصر مگسی،کرم دادواہلہ ،ذیشان گورمانی ، علمدار قریشی ، محمد خان جتوئی
اور سابق رکن پنجاب اسمبلی جمیل شاہ اور دیگر نے پریس کانفرنس میں شمولیت کا اعلان کیا۔ سابق رکن پنجاب اسمبلی فتح محمد خان بزدار اور رکن پنجاب اسمبلی افتخار گیلانی کی بھی محاذ میں شرکت کا اعلان کیا گیا لیکن دونوں شخصیات مصروفیت کی وجہ سے پریس کانفرنس میں شریک نہ ہو سکیں۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کے صدر مخدوم خسر و بختیار نے کہاکہ ہماری تحریک جنوبی پنجاب کے عوام کے حقوق کے لئے ہے ،ہمارا کسی سے کوئی اختلاف نہیں ، نواب آف بہاول پور کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں لیکن کچھ لوگوں کی سیاسی بصیرت پر دکھ ہوا جو پرانی تقسیم پرچلنا چاہتے ہیں،اگر جنوبی پنجاب کے آبادی غیر معمولی بڑھتی ہے تو یہاں مستقبل میں دو صوبے بنائے جاسکتے ہیں ہمیں اس پر اعتراض نہیں ۔انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف سمیت دیگر جماعتوں سے ہماری بات چیت جاری ہے لیکن اسی جماعت کے ساتھ چلیں گے جو جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنائے گی ،جنوبی پنجاب کے عوام کے د س قیمتی سال ضائع کردئیے گئے ۔ شریک چیئر مین سردار نصر اللہ دریشک نے کہاکہ جنوبی پنجاب میں صرف تین یونیورسٹیاں ہیں جن کی حالت انتہائی خراب ہے ، ہم نے جدوجہد شروع کردی ہے ،بہت جلد جنوبی پنجاب کے صوبہ کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگا۔جنرل سیکرٹری طاہر بشیر چیمہ نے کہاکہ تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ سیاستدان ایک مقصد کے لئے ساتھ چل رہے ہیں،این ایف سی کا صرف33فیصد جنوبی پنجاب پر خرچ ہوتا تو یہاں کی حالت تبدیل ہو چکی ہوتی ۔جنوبی پنجاب کی 46نشستیں بھی جیت جائیں تب بھی کسی جماعت سے اتحاد کرنا پڑے گا۔نائب صدر رانا قاسم نون نے کہاکہ شریف برداران جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنا سکتے تھے لیکن انہوں نے صرف اپنے مفا د کو عزیز رکھا۔



















































