منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ نیلوفر رحمان ابھی کیا کر رہی ہیں؟ اصلیت جان کر پورے افغانستان کا سرشرم سے جھک جائیگا

datetime 5  مئی‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی جنگ کے دوران پائلٹ بننے والی افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ کو امریکہ نے پناہ دیدی۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان میں طالبان کے خلاف امریکی جنگ کے دوران پائلٹ بننے والی افغانستان کی پہلی خاتون پائلٹ نیلوفر رحمانی کو امریکہ نے پناہ دیدی۔نیلوفر افغان ایئر فورس کی سابقہ کیپٹن ہیں جنہوں نے 2015 میں پائلٹ کی

ٹریننگ کیلئے اپنا ملک چھوڑکر امریکہ جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ امریکہ نے نیلوفر رحمانی کو پائلٹ بنانے کیلئے تمام خرچ خود ادا کیا تاہم اب امریکہ حکام کی جانب سے فیصلہ کیا گیاہے کہ انہیں واپس ان کے گھر بھیجنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔نیلوفر اس وقت صرف 18 سال کی تھیں جب انہوں نے افغان آرمی میں شمولیت اختیا ر کی اور ہمیشہ پائلٹ بننے کی خواہشمند رہیں ۔رحمانی نے جب 2013 میں اپنی ٹریننگ مکمل کی تو یہ عوامی سطح پر یہ بہت مشور ہو گئیں کیونکہ افغانستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا اسی کی وجہ سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ،ان کو طالبان کے علاوہ ان کے اپنے خاندان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا جو کہ اس پیشے کو باعث ذلت سمجھتے ہیں ۔نیلو فر کا کہناتھاکہ جنہوں نے مجھے امریکہ میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے میں ان کی شکر گزار ہیں ، میں اب صرف یہ چاہتی ہوں کہ میں اڑان بھرنے کا اپنا خواب پورا کروں ۔امریکہ نے نیلوفر رحمانی کو پائلٹ بنانے کیلئے تمام خرچ خود ادا کیا تاہم اب امریکہ حکام کی جانب سے فیصلہ کیا گیاہے کہ انہیں واپس ان کے گھر بھیجنا خطرے سے خالی نہیں ہے ۔نیلوفر اس وقت صرف 18 سال کی تھیں جب انہوں نے افغان آرمی میں شمولیت اختیا ر کی اور ہمیشہ پائلٹ بننے کی خواہشمند رہیں ۔رحمانی نے جب 2013 میں اپنی ٹریننگ مکمل کی تو یہ عوامی سطح پر

یہ بہت مشور ہو گئیں کیونکہ افغانستان کی پہلی خاتون تھیں جنہوں نے یہ سنگ میل عبور کیا اسی کی وجہ سے ان کی جان کو خطرات لاحق ہو گئے ،ان کو طالبان کے علاوہ ان کے اپنے خاندان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا جو کہ اس پیشے کو باعث ذلت سمجھتے ہیں ۔نیلو فر کا کہناتھاکہ جنہوں نے مجھے امریکہ میں پناہ دینے کا فیصلہ کیا ہے میں ان کی شکر گزار ہیں ، میں اب صرف یہ چاہتی ہوں کہ میں اڑان بھرنے کا اپنا خواب پورا کروں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…