منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کینیا میں شدید بارشیں اور سیلاب سے 100افرادہلاک،ہزاروں بے گھر

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

نیروبی(این این آئی)کینیا میں حالیہ دنوں میں شدید بارشوں ، سیلابوں اور مٹی کے تودے پھسلنے سے اندازا دو لاکھ افراد کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہونا پڑا بڑی تعداد میں لوگ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔میڈیارپورٹس کے مطابق کینیا کی ریڈ کراس نے کہا کہ محتاط اندازوں کے مطابق اپریل کے شروع میں بارشوں کے آغاز سے اب تک کم ازکم ایک سو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

اور سیلابوں سے متاثرہ افراد کی مدد کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے۔زیریں ساحلی علاقے میں دریائے تانا کے کنارے واقع ایک قصبے کی ایک خاتون نے خبررساں ادارے روئیٹرز کو بتایا کہ میری 12 مرغیاں اور چار بکریاں سیلاب میں بہہ گئیں۔ میں اپنی تمام بکریوں اور مرغیوں کو نہیں بچا سکی کیونکہ پانی کے تیز بہا کی وجہ سے میں ان تک نہیں پہنچ سکی۔شدید بارشوں کے بعد آنے والے سیلابی ریلوں کی وجہ سے لوگوں نے محفوظ مقامات پر اپنے کنبے کے افراد اور گھر کا سامان پہنچانے کے لیے لکڑی کے ٹوٹے پھوٹے ٹکڑے جوڑ کر خود ہی کشتیاں بنائیں۔سیلابوں کے باعث وسطی اور شمالی کینیا اور ساحلی علاقوں کو ملانے والی تمام بڑی سڑکیں بند پڑی ہیں۔ اسی طرح دارالحکومت نیروبی سے مرکزی بندرگاہ مومباسا کی سڑک بھی پچھلے ایک ہفتے سے زیر آب ہے۔کینیا ریڈ کراس کے سیکرٹری جنرل عباس گولت کا کہنا تھا کہ مرکزی پہاڑی علاقے مورانگ میں مٹی کے تودے پھسلنے سے 8 افراد اس وقت ہلاک ہو گئے جب ان کے مکان ملبے کے نیچے دھنس گئے۔گولت نے بتایا کہ فوج اور پولیس نے امدادی کوششوں میں مدد کے لیے ہیلی کاپٹر بھیج دیے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پانی سے پھیلنے والی وبائی بیماریاں اب ایک اور خطرے کے طور پر کینیا پر منڈلا رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…