منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ،دن کی روشنی میں 6لڑکوں نے لڑکی کے کپڑے پھاڑ ڈالے ،فلم بنانے کیساتھ ایسا کام کرتے رہے کہ شیطان کو بھی شرم آجائے

datetime 1  مئی‬‮  2018 |

نئی دہلی(سی پی پی)انڈیا کی شمال مشرقی ریاست بہار میں پولیس نے ایک نابالغ لڑکی کو برہنہ کرنے اور جنسی طور پر ہراساں کیے جانے والی ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد چھ افراد کو گرفتار کرلیا ۔وائرل ہونے والے ویڈیو میں آٹھ لڑکوں کو ایک لڑکی کے کپڑے اتارتے اور اسے جنسی زیادتیوں کا نشانہ بناتے دیکھا جا سکتا ہے۔بہار پولیس نے ایک پریس کانفرنس میں چار لڑکوں کی گرفتاری کی تصدیق کی جبکہ انڈین میڈیا نے بتایا کہ بعد میں دو لڑکے

مزید گرفتار کیے گئے۔پٹنہ زون کے آئی جی نیر حسنین خان نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ یہ ویڈیو 28 اپریل کی شب پولیس کو ملی تھی جس کے بعد انھوں نے کارروائی کرتے ہوئے چار افراد کو گرفتار کیا ہے جن میں سے ایک نابالغ ہے اور باقی لوگوں کی تلاش جاری ہے۔انھوں نے بتایا کہ اس معاملے میں ملزمان کے خلاف ‘پوسکو’ قانون کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ پوسکو قانون نابالغوں کو جنسی تشدد سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے حال ہی میں بنایا گیا ہے۔وائرل ہونے والے ویڈیو میں کچھ نوجوان ایک لڑکی کے زبردستی کپڑے اتارتے نظر آتے ہیں جبکہ لڑکی جدوجہد کرتی اور چیختی پکارتی نظر آتی ہے اور آس پاس کھڑے کئی نوجوان ہنستے اور مذاق اڑاتے نظر آتے ہیں۔پولیس نے کہا کہ ویڈیو میں نظر آنے والی موٹر سائیکل سے ملزمان کو تلاش کرنے میں مدد ملی ہے۔نیر حسنین نے بتایا کہ پولیس نے اس معاملے میں وہ موٹر سائیکل برآمد کر لی ہے جو اس ویڈیو میں جائے وقوعہ پر نظر آتی ہے۔نیر حسنین نے اس سلسلے میں بتایا کہ حراست میں لیے جانے والے ملزمان سے پوچھ گچھ کے بعد ہی یہ واضح ہو پائے گا کہ یہ موٹر سائیکل ملزمان کی ہے یا کسی اور کی ہے یا پھر اس کا متاثرہ لڑکی سے کوئی تعلق ہے۔اس ویڈیو میں چند افراد اس واقعے کو دیکھتے نظر آ رہے ہیں

لیکن انھوں نے اسے روکنے کی کوشش نہیں کی ہے۔آئی جی نیر کا کہنا ہے کہ اس ویڈیو کی تشہیر بھی قانونا جرم ہے۔ انھوں نے لوگوں سے بھی اپیل کی کہ اگر کسی کے پاس اس کے متعلق معلومات ہیں تو وہ پولیس کو مطلع کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…