پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

سیاسی نیلوفر کا بھی خطرہ ہے، سراج الحق

datetime 30  اکتوبر‬‮  2014 |

کوئٹہ۔۔۔۔۔.جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے ایک بار پھر وزیراعظم میاں نواز شریف اور عمران خان سے اپیل کی ہے وہ ملک میں جاری سیاسی بحران کا حل آپس میں مل بیٹھ کوئی اچھا حل نکالیں۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر ایک طرف سمندر کی طرف سے طوفان نیلو فرکا خطرہ ہے تو دوسری طرف کراچی اور سندھ میں سیاسی نیلوفر کا بھی خطرہ ہے،ان حالات میں ہماری کوشش ہے کہ کوئی اورہنگامہ کھڑا نہ ہو۔کراچی سے کوئٹہ پہنچنے کے بعد کوئٹہ میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت میں امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ ہمارا پہلے بھی یہی موء قف تھا کہ تحریک انصاف کے اراکین کے استعفے منظور نہیں کئے جانے چاہئیں، اس سلسلے میں انہوں نے اسپیکر قومی اسمبلی سے ذاتی طور پر اور سیاسی جرگے کے ذریعے بھی اپیل کی کہ تحریک انصاف کے استعفے منظور نہ کِئے جائیں کہ اگر استعفے منظور کئے گئے تو سیاسی بحران میں مزید اضافہ ہوگا اور جذبات میں تیزی آئے گی جس سے اشتعال بڑھے گا، جس کی وجہ سے قبل ازوقت یا مڈٹرم الیکشن کیلئے ماحول بنیگا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ اس کی وجہ سے ہمارے مسائل میں مزید اضافہ ہوجائے، پھر آگے پوری قوم کو محرم میں امن و امان کا ایک بہت بڑا چیلنچ بھی در پیش ہے اور خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن جاری ہے، 11لاکھ آئی ڈی پیز کا مسئلہ بھی ابھی تک حل نہیں ہوا، اس صورتحال سے وزیروں، سیاستدانوں اور دوسرے بڑوں کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، عوام کا ہی نقصان ہوگا۔ سراج الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھرنوں سے پہلے بھی ملک کی معیشت کی صورتحال اچھی نہ تھی، دھرنوں کے بعد بھی یہی صورتحال ہے جس کی وجہ ملک کی معاشی پالیسی کی ناکامی ہے۔ بلوچستان کے حوالے سے سراج الحق کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال بہت مخدوش ہے، یہاں کے مسائل پر فوکس کرنے کی ضرورت ہے، کوئٹہ میں مولانا فضل الرحمان پر حملہ بھی ہوا جو بہت افسوسناک ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…