منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت کے تمام دیہاتوں کو بجلی پہنچا دی گئی،مودی سرکار کا دعویٰ حقیقت کیا ہے؟بھارتیوں نے اپنی ہی حکومت کا بھانڈا پھوڑ دیا

datetime 30  اپریل‬‮  2018 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارتی حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ بھارت کے تمام دیہات کو بجلی کی فراہمی کا سلسلہ مکمل ہو گیا ہے۔ دوسری جانب کئی دیہات کے لوگوں نے سوشل میڈیا پر تحریر کیا ہے کہ یہ حکومتی دعویٰ درست نہیں ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے ایک بیان میں کہاکہ سارے ملک کے دیہات کو بجلی کی فراہمی کا عمل وزیر اعظم نریندر مودی کی دی گئی مہلت سے بارہ روز قبل مکمل کر لیا گیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم نے سابقہ الیکشن سے قبل اپنی انتخابی مہم کے دوران وعدہ کیا تھا کہ اْن کی حکومت ہر گاؤں کو بجلی فرہم کرے گی۔ سیاسی ماہرین کے مطابق 2019 کے عام انتخابات سے قبل مودی حکومت نے ایک بہت بڑے سنگ میل کو عبور کیا ہے اور نتجتاً مودی کو انتخابات میں دیہی عوام کی حمایت حاصل ہو سکتی ہے۔نریندر مودی نے اپنے ملک کے سبھی دیہات کو بجلی فراہم کرنے پر اِسے ملکی ترقی میں ایک تاریخی دن قرار دیا ہے۔ تمام دیہات کو بجلی کی فراہمی مکمل کرنے کے حوالے سے بھارتی وزیراعظم نے ا اعلان کیا کہ ملک کے انتہائی دور دراز شمال مشرق میں واقع ایک گاؤں آخری ہے، جسے بجلی فراہم کرنے کی بنیادی تیاری مکمل ہو گئی ہے۔مودی نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارت کے بے بہا لوگوں کی زندگیوں میں ہمیشہ رہنے والی تبدیلی پیدا کر دی گئی ہے۔ اہم انتخابی وعدے کی تکمیل پر بھارتی حکومت کے وزراء نے سوشل میڈیا پر اپنے وزیراعظم کو مبارک باد دینے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔نئی دہلی حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق جب 2014 میں نریندر مودی نے منصبِ وزارتِ عظمیٰ سنبھالا تھا تو سارے ملک میں اٹھارہ ہزار 452 دیہات بغیر بجلی کے تھے۔ حکومت کے مطابق بھارت کے تقریباً چھ لاکھ دیہات کو اب بجلی فراہم کی جا چکی ہے۔دوسری جانب حکومت مخالف ماہرین کا کہنا تھاکہ بجلی فراہم کرنے والے گرڈ کے ساتھ دیہات کو منسلک کر دینے سے بجلی کی فراہمی کا عمل مکمل نہیں ہوتا۔ اسی طرح بعض لوگوں نے حکومتی دعوے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اْن کے گاؤں کو بجلی فراہم نہیں کی گئی ہے۔ ایسا ہی ایک ٹویٹ اتر پردیش کے دلیپ گپتا نے کیا ہے، اْن کے مطابق ابھی تک ہر ایک گاؤں کو بجلی فراہم نہیں کی جا سکی ہے اور ایسے دیہات میں اْن کا گاؤں بھی شامل ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…