کراچی (نیوزڈیسک) اگرچہ سابق صدر آصف علی زرداری کی سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد خان اور سینیٹر رحمان ملک کے ساتھ جمعہ کے روز ہونے والی ملاقاتوں کو سرکاری طور پر ’’معمول کی ملاقاتیں‘‘ قرار دیا گیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان دونوں شخصیات سے کئی اہم مسائل خاص طور پر ایک پولیس افسر کے دعووں سے پیدا ہونے والی صورتحال کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا۔واضح رہے کہ مذکورہ پولیس افسر نے دعویٰ کیا تھا کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) ’’ملک دشمن‘‘ سرگرمیوں میں ملوث ہے۔تجزیہ کار پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین کی ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ ملاقات کو خاصی اہمیت دے رہے ہیں، اس لیے کہ ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا تھا کہ اس پریس کانفرنس کا زرداری، سندھ کے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ اور ’’ایک تیسری شخصیت‘‘ کا براہِ راست تعلق تھا۔اس کانفرنس میں مذکورہ پولیس افسر نے الزام عائد کیا تھا کہ ہندوستانی ایجنٹوں نے ایم کیو ایم کے بہت سے کارکنوں کی تربیت کی تھی۔پیپلزپارٹی نے ایم کیو ایم کے دعوے کی سرکاری طور پر تردید نہیں کی، لیکن بظاہر یہ دکھانے کے لیے کہ وہ اس ’’دھماکہ خیز‘‘ پریس کانفرنس کے پیچھے نہیں تھی، اس پولیس افسر کا تبادلہ کردیا گیا۔ذرائع کے مطابق زرداری اور عشرت العباد نے ’’خاص طور پر سندھ اور کراچی سے تعلق رکھنے والے سیکیورٹی اور سیاسی معاملات سمیت بعض اہم مسائل پر تبادلہ خیال کیا۔‘‘انہوں نے کہا کہ اس ملاقات کے دوران زرداری پیپلزپارٹی کے ساتھ اس کے تعلق کے حوالے سے ایم کیو ایم کے تحفظات دور کرنے کے خواہشمند دکھائی دیے، اور ایسا کرنے کے لیے انہیں ڈاکٹر عشرت العباد کے ساتھ ملاقات نے ایک مناسب موقع فراہم کیا۔یاد رہے کہ گورنر سندھ دونوں سیاسی جماعتوں کے مابین پیدا ہونے والی غلط فہمیاں دور کرنے کے لیے رابطے کا ایک مؤثر ذریعہ رہے ہیں۔ذرائع نے کہا کہ یہ ملاقات مختصر تھی، اس لیے کہ زرداری بنیادی طور پر ایک میڈیا کانفرنس میں شرکت کے لیے گورنر ہاؤس گئے تھے۔اسی دوران زرداری سے بلاول ہاؤس پر ملاقات کے بعد سینیٹر رحمان ملک نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی پارٹی کے دروازے ایم کیو ایم کے لیے کھلے ہوئے ہیں۔انہون نے کہا کہ دو مہینے قبل کراچی کی سیکیورٹی صورتحال بدتر ہوگئی تھی، تو دونوں سیاسی جماعتوں نے ایک اتحادی حکومت کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا، لیکن اقتدار کی شراکت کا فارمولہ اب بھی طے ہونا باقی ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ ’’جیسے ہی صورتحال تبدیل ہوئی، تو ہم دوبارہ نہیں مل سکے۔‘‘جب ان سے علیحدہ صوبے کے لیے ایم کیو ایم کے مطالبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو رحمان ملک نے کہا کہ اس طرح کا مطالبہ کرنا پارٹی کا جمہوری حق ہے، لیکن اس معاملے میں سندھ اسمبلی اور اس کے بعد قومی اسمبلی کا فیصلہ حرفِ آخر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کسی سیاسی جماعت کو مسلح افواج کے بارے میں ’’منفی بیان‘‘ نہیں دینا چاہیے، لیکن انہوں نے مزید کہا کہ کسی پولیس افسر کو کسی سیاسی جماعت کے خلاف فیصلہ دینے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ حوصلہ افزا رویہ ہے کہ پیپلزپارٹی کے چیف ایم کیو ایم کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنا چاہتے ہیں، اگرچہ اس نے صوبائی اسمبلی میں حزبِ اختلاف کا کردار اختیار کرلیا ہے۔ایک تجزیہ نگار نے کہا کہ ’’یہ سندھ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں کے لیے اچھا ہوگا کہ وہ آپس میں خوشگوار تعلقات کو برقرار رکھیں، چاہے وہ حکومت میں شراکت دار ہوں یا اسمبلی میں سیاسی حریف۔‘‘
زرداری کی ایم کیو ایم کے خدشات دور کرنے کی کوشش
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)
-
حکومت نے سولر بجلی سے متعلق نئی پالیسی پر غور شروع کردیا
-
حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کردیا
-
عید میلاد النبیؐ کی چھٹی کس دن ہوگی؟ بڑی خبر آگئی
-
سینکڑوں عمرہ زائرین رُل گئے
-
بھارت کے معروف اداکار چل بسے
-
ایجوکیشن اتھارٹی کاموسمِ گرما کی تعطیلات بارے نجی تعلیمی اداروں کے لیے سخت حکم نامہ جاری
-
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کردی گئی
-
سرکاری ملازمین کی تنخواہیں، وزارت خزانہ نے نئی وضاحت جاری کردی
-
لاہور؛ اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی اور تھانہ معطلی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی
-
عماد وسیم کی سابقہ اہلیہ ثانیہ اشفاق نے دوسری شادی کر لی؟
-
بجلی کے ہر یونٹ پر 5 روپے سیلز ٹیکس نافذ، اطلاق کن صارفین پرہوگا؟
-
اے ایس آئی کی لڑکی سے مبینہ زیادتی، ایس ایچ او سمیت تھانے کا پورا عملہ معطل
-
محمد عباس کو کیوں ڈراپ کیا گیا؟ بابر اعظم نے وجہ بتادی



















































