جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے، سپریم کورٹ

datetime 28  اپریل‬‮  2018 |

کراچی (آئی این پی )سپریم کورٹ کے جج جسٹس گلزار احمد نے سندھ کول اتھارٹی میں کرپشن کی انکوائری رپورٹ پیش نہ کیے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم ہے۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سندھ کول اتھارٹی میں بڑے پیمانے پر کرپشن کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت نے انکوائری رپورٹ پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

جسٹس گلزار احمد نے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرور خان سے کہا کہ سندھ میں کیا ہو رہا ہے، کتنے ظالم لوگ ہیں آپ، ایک ایک پائی کھا جاتے ہیں، کیا اپنے علاقے سے محبت نہیں، سندھ میں لوٹ کھسوٹ کا بازار لگا ہوا ہے۔جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پتہ ہے پورے ملک میں سندھ کے بارے میں کیا تاثر ہے، کیا ہم بتائیں کہ آپ کے بارے میں اسلام آباد میں بیٹھ کر کیا کچھ سننے کو ملتا ہے، تھر میں بھوک سے بچے مررہے ہیں، کھانے کو کچھ نہیں، تعلیم ہے نہ کھانے کو کچھ ہے۔ 10 پندرہ ارب کہاں گئے، کس کے اکانٹ میں گئے، کچھ پتہ نہیں، اتنا پیسہ سندھ کے عوام پر لگ جاتا تو صوبے کی حالت بدل جاتی، بتایا جائے یہ پیسہ کس کے اکانٹ میں گیا، کیا سمجھتے ہیں ہمیں کچھ علم نہیں۔جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیے کہ باقی صوبوں میں 50 فیصد لگ بھی جاتا ہوگا مگر یہاں سب لوٹ لیا جاتا ہے، کیا معاملہ نیب کو بھیج دیں، آپ خود اپنے صوبے کے لیے کیا کر رہے ہیں، تھر کا سینہ چیر کر کوئلہ نکال کر انہیں مزید تباہ کررہے ہیں، سندھ حکومت نے ہر چیز پر آنکھیں بند کر رکھی ہیں، کیا کریشن کا سدباب ہمارا کام ہے؟، حکومت کہاں ہے؟ ہمیں کن کاموں میں الجھا دیا گیا۔عدالت نے سندھ کول اتھارٹی میں بے ضابطگیوں کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سندھ حکومت کو حکم دیا کہ ایک ماہ میں بتائیں پیسہ کہاں گیا، کتنے منصوبے بنائے گئے اور کتنی رقوم جاری ہوئیں، کس منصوبے پر کیا پیش رفت ہوئی، پروجیکٹ کی تصاویر بھی عدالت میں پیش کی جائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…