بدھ‬‮ ، 16 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں دو کروڑ شیرخوار بنیادی نوعیت کی ویکسین سے محروم

datetime 24  اپریل‬‮  2018 |

نیویارک(این این آئی)عالمی ادارہ صحت کی طرف سے شیر خوار بچوں کی بنیادی ضرورت کی ویکسین سے متعلق جاری کردہ ایک رپورٹ میں لرزہ خیز اعدادو شمار بیان کیے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پوری دنیا میں قریبا دو کروڑ شیر خوار بنیادی ویکسین سے محروم ہیں۔غیرملکی میڈیا کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں ایک کروڑ 95 لاکھ شیر خوار ایسے ہیں جنہیں بنیاد نوعیت کی ویکسین دستیاب نہیں۔

ان میں سے 86 فی صد بچوں کو گذشتہ سال کے دوران بنیادی ویکسین نہیں پلائی جا سکی۔یہ رپورٹ عالمی ہفتہ امیونائزیشن کی مناسبت سے جاری کی گئی ہے۔ یہ مین 24 سے 30 اپریل تک پوری دنیا میں منائی جا رہی ہے جس میں بچوں کی بنیادی صحت اور ویکسینیشن کے بارے میں آگاہی مہیا کی جائیگی۔اس مہم کے ذریعے دنیا کے مختلف خطوں بالخصوص پسماندہ علاقوں میں بچوں کی طبی ضروریات اور ان کے حصول کے طریقوں کے بارے میں شعور اجاگر کیا جائے گا۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا تھا کہ ام یونائیزیشن صحت کے حوالے سے ایک فعال اور زیادہ کامیاب طبی ذریعہ ہے۔ ماہرین کا کہنا تھا کہ ایک ڈالر جسے بچوں کی ویکسین پر خرچ کیا جاتا ہے اس کے بدلے میں اقتصادی اور سماجی شعبوں کو 44 ڈالر کا فایدہ پہنچتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر برائے مشرق وسطیٰ ڈاکٹر جواد المحجور کا کہنا تھا کہ ہنگامی حالت کا شکار خطے کے کئی ممالک میں شیر خواروں کو بنیادی ویکسین کی فراہمی ایک مشکل مرحلہ ہے مگر ہم اس میں کافی حد تک کامیاب رہے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ڈائریا،تشنج اور کالی کھانسی کی تیسرے مرحلے کی ویکسین کا 80 فی صد کام مکمل ہوچکا ہے تاہم ابھی بہت سے دوسریامراض کے علاج کے لیے ویکیسینیشن پر کام کرنا باقی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…