پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

پانی کے اندر خشکی کی طرح زندہ رہنے والے انسان سامنے آگئے،اسلامی ملک کے سمندر کنارے بسنے والا پورا قبیلہ کتنی دیر تک پانی میں زندہ رہ سکتا ہے، سائنسدانوں نے جسموں کا معائنہ کیا تو ان کے جسموں میں کیا چیز مل گئی، ہر کوئی دنگ رہ گیا

datetime 21  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پانی کے اندر ایک منٹ سے زیادہ رہنا انسان کیلئے تقریباََ ناممکن ہے کچھ لوگ پانی کے اندر زیادہ دیر تک رہنے کیلئے سخت مشقیں کر کے اس وقت کو بڑھانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تاہم قدرتی طور پر انسان زیادہ دیر تک پانی کے اندر نہیں رہ سکتا مگر اب انکشاف ہوا ہے کہ انڈونیشیاءمیں ساحل سمندر پر بسنے والے ایک قبیلے کے لوگ 13منٹ تک سانس روک کر

سمندر کے پانی میں رہ سکتے ہیں۔برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق س قبیلے کا نام ’باجاؤ‘ہے جس کے لوگ سمندر میں 230فٹ گہرائی تک غوطہ لگا سکتے ہیں اور 13منٹ تک پانی میں گزار سکتے ہیں۔ سائنسدانوں نے اس قبیلے کے لوگوں کے جسموں کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ یہ لوگ ارتقائی عمل سے گزر کر اپنے جسموں میں ایسی جینیاتی تبدیلیاں کر چکے ہیں کہ ان میں مچھلیوں جیسی کچھ خصوصیات آ گئی ہیں۔چنانچہ سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں ان لوگوں کو ’انسانی مچھلیاں‘ قرار دیا ہے۔کیمبرج یونیورسٹی سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ”یہ لوگ 1ہزار سال سے زائد عرصے سے اس علاقے میں رہائش پذیر ہیں اور نسل درنسل سمندر میں غوطے لگاتے آ رہے ہیں۔ ارتقائی طور پر ان لوگوں کی تلی (spleen)نارمل لوگوں سے کئی گنا بڑی ہو چکی ہے۔ ان کے ہمسایہ قبیلے سیلوان کے لوگوں کی نسبت ان کی تلی 50فیصد بڑی ہے۔ “ تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ میلیزا ایلارڈو کا کہنا تھا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے والی سیلز، جن میں ویڈیل سیل (Weddell Seal)کی مثال نمایاں ہے، کی تلیاں بڑی ہوتی ہیں ۔ باؤجا قبیلے کے لوگوں میں بھی یہ تلیاں بڑی ہو چکی ہیں جو انہیں گہرائی میں غوطہ لگانے اور دیر تک سانس روکے رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔“تحقیقاتی ٹیم کی سربراہ میلیزا ایلارڈو کا کہنا تھا کہ ”ہم جانتے ہیں کہ سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگانے والی سیلز، جن میں ویڈیل سیل (Weddell Seal)کی مثال نمایاں ہے، کی تلیاں بڑی ہوتی ہیں ۔ باؤجا قبیلے کے لوگوں میں بھی یہ تلیاں بڑی ہو چکی ہیں جو انہیں گہرائی میں غوطہ لگانے اور دیر تک سانس روکے رکھنے میں مدد دیتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…