ارسطو نے کہا تھا انسان معاشرتی جانور ہے اور یہ تنہا نہیں رہ سکتا۔ آج کے اس دور میں جب دنیا کی آبادی چھ ارب سے بھی تجاوز کرچکی ہے انسانی حقوق کی تنظیمیں خود کو ملکی حکومتوں سے زیادہ فعال سمجھتی ہیں۔ ایسے حالات میں بھی کچھ ایسے انسان دوست لوگ موجود ہیں جو عمر قید سے بھی بڑی سزا کاٹ رہے ہیں۔ عمر قید کے ایسے ہی ایک انوکھے قیدی کی کہانی آپ کے لئے لائے ہیں ندیم اقبال‘آئیے پڑھیں غالباً1972 کے اوائل ہی کی بات ہے
جب امریکی ریاست لوشایاناکے ایک شخص کو اکتالیس سال قید تنہائی کی سزا دی گئی‘اس کا نام ہرمین والس (Herman wallace)تھا‘ اسے یہ سزا ایک قتل کی وجہ سے دی گئی۔ اس کا کہنا تھا کہ قتل اس نے نہیں کیا۔ سزا ملی تو والس کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اس کی سزا عمر قید ہے یا اس سے بھی لمبی قید۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب اس نے پولیس اہلکار سے زبردستی پوچھنے کی کوشش کی کہ اسے آخر یہ بتایا جائے کہ یہ سزا کب تک ختم ہو گی کیونکہ اسے جج نے بھی سزا کے حوالے سے نہیں بتایا تھا مگر کوئی بھی اسے اس بات کا جواب نہیں دے پا رہا تھا کہ اس کی سزا کب ختم ہوگی؟ شاید ان لوگوں میں سے بھی کسی کو علم نہ تھا کہ والس کی سزا کب ختم ہوگی۔ ایک دن والس نے پولیس افسر کو تھپڑ رسید کر دیا‘ اس دن سے والس کی سختیوں میں اضافہ ہوا اور اسے ایک کال کوٹھڑی میں بند کر دیاگیا‘ اس قید تنہائی میں وہ اکیلا تھا اور رات دن اندھیرا ہی اندھیرا ۔کوئی اس کی آواز تک نہ سن سکتا تھا۔ اب والس کی زندگی رک گئی‘ اسے نہ دن کی خبر ہوئی‘ نہ رات کی اور تاریخ کا علم ہونا تو ایسے میں بہت دور کی بات ہے۔ مسلسل مایوسی نے والس کو بیمار کر دیا‘ بیماری حد سے بڑھی مگر کوئی دیکھ بھال کو نہ تھا ۔ والس کو قید تنہائی میں کچھ عرصہ گزرا تودو افراد کو فوجی ساما ن اور ہتھیار چوری کے الزام میں قید ہوئی‘ ان کے ہاتھوں جیل میں ہی مبینہ طور پر ایک گارڈ کا قتل ہوگیااور انہیں بھی قید تنہائی میں ڈال دیاگیا۔مذکورہ دو افراد کے آنے کے بعد والس سمیت تین افراد کو”Angola three” کا نام دیاگیا۔برسوں تک یہ لوگ اسی قید تنہائی کے عذاب میں مبتلا رہے۔ کوئی پوچھنے والا نہ تھا‘
کسی کو ملاقات کی اجازت نہ تھی اور ان لوگوں کو سورج دیکھے برسوں گزر گئے تھے ۔جب خدا کسی کی مدد کرنا چاہتا ہے تو وہ راہیں بھی خودبخود بنا دیتا ہے اور مضبوط عقیدے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ جو جو ٗجب جب ٗ سو سو ٗ تب تب ہوتا ہے۔اس کائنات کا ایک پتا بھی حکم الٰہی کے بغیر نہیں ہل سکتا۔ اب اللہ نے والس اور دوسرے دو لوگوں کی سن لی‘ ان”Angola three” کے قید تنہائی تو قریباً بیس سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا تھا۔انسانی حقوق سے وابستہ ایک تنظیم کے نوجوان وکیل نے جب ان لوگوں کے بارے میں سنا تو ان کے حق میں آواز بلند کرنااور ہر فورم پر ان کے لئے لڑنا شروع کر دیا۔طویل اور ان تھک کوشش کے بعد وکیل ان لوگوں کی قید تنہائی ختم اور والس کو رہا کروانے میں کامیاب ہوگیا۔
جب والس رہا ہوا تو وہ اس وقت تک41 سال قید تنہائی کاٹ چکا تھا۔وہ جیل کے دروازے پر حیران کھڑا تھا‘ اس کے منہ سے نکلنے والے پہلے الفاظ یہ تھے کہ وہ آج بہت خوش ہے۔ اس کا کہنا تھااکتالیس برس گزرنے کے باوجود اس نے زندہ رہنے کی خواہش مرنے نہیں دی کیونکہ اگر یہ خواہش ختم ہو جاتی تو شاید وہ کب کا اس دنیا سے بھی رخصت ہو چکا ہوتا۔2013ء کے اوائل میں جب والس جیل سے باہر آیا تو اس نے جو پہلا سوال کیا وہ یہ تھا کہ آج کیا دن ہے اور یہ سال کون سا چل رہا ہے؟
والس جب جیل سے نکلا تو جگر کا کینسر والس کے اندر اپنی جڑیں اس قدر مضبوط کر چکا تھا کہ والس کو شائد اندازہ بھی نہیں تھا کہ اس کے پاس اب زیادہ وقت نہیں ہے۔گھر پہنچا تو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ بہت خوشی سے اور انتہائی محبت سے باتیں کرنے لگا۔ وہ سب کو باربار اس بات کی یاددہانی کروا رہا تھا کہ وہ آزاد ہو چکا ہے۔دو دن اس نے ایک مکمل صحت مند شخص کے طورپر گزارے۔ تیسرے دن صبح کے سات بجے والس اس رحم اور ظالم دنیا کو چھوڑ کر اگلی منزلوں کا راہی ہوا۔ والس کے دوستوں اور عزیزو کے لئے آخر ی الفاظ تھے’’مجھے آپ سب لوگوں سے پیار ہے‘‘۔



















































