پیر‬‮ ، 19 جنوری‬‮ 2026 

چائے کے 3 کپ روزانہ فالج کا خطرہ کم کریں

datetime 19  اپریل‬‮  2018 |

آسٹریلیا(مانیٹرنگ ڈیسک) اگر تو آپ چائے یا کافی پینا پسند کرتے ہیں تو اچھی بات یہ ہے کہ یہ عادت دل کی دھڑکن کی بے ترتیبی اور فالج کا خطرہ کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔ میلبورن کے الفریڈ ہاسپٹل کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چائے یا کافی میں موجود کیفین مرکزی اعصابی نظام کو حرکت میں لاکر ایڈی نوسین نامی کیمیکل کے اثرات کو بلاک کرتا ہے جو کہ atrial fibrillation یا اطاقی فائبرلیشن کا باعث بنتا ہے۔

چائے پینے کا یہ فائدہ جانتے ہیں؟ اطاقی فائبرلیشن دل کی دھڑکن کا سب سے عام مرض ہے جس میں دل بہت تیزی سے دھڑکتا ہے اور علاج نہ کرایا جائے تو فالج بھی ہوسکتا ہے۔ تحقیق کے مطابق عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ کیفین سے دل کی دھڑکن کے مسائل پیدا ہوتے ہیں ، تاہم کافی اور چائے وغیرہ اس سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں جس کی وجہ ان میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس اور ایڈی نوسین کو بلاک کرنے کی خصوصیت ہے۔ اس حوالے سے روزانہ 3 کپ ان مشروبات کا استعمال فائدہ مند ہوتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران 2 لاکھ سے زائد افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا تو معلوم ہوا کہ کیفین والے مشروبات کے استعمال سے دل کی دھڑکن کے مسائل کا خطرہ 13 فیصد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ اس تحقیق کے دوران ایسے 103 افراد کا جائزہ بھی لیا گیا جو ہارٹ اٹیک کا شکار ہوچکے تھے اور انہیں روزانہ 353 ملی گرام کیفین استعمال کرایا گیا تو دل کی دھڑکن میں بہتری آئی۔ چائے پینا جان لیوا مرض سے بچائے تاہم تحقیق کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ چائے یا کافی کا بہت زیادہ استعمال ایسے عارضے کا خطرہ بڑھاتا ہے جس میں دل کے نچلے چیمبرز میں دھڑکن بہت تیز ہوجاتی ہے۔ اس تحقیق کے نتائج جریدے جرنل جے اے سی سی: کلینکل Electrophysiology میں شائع ہوئے۔

موضوعات:



کالم



تہران میں کیا دیکھا


ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…