جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

نیب لاہور کی جانب سے صاف پانی کرپشن کیس بڑی پیشرفت ،کروڑوں کے فراڈ میں مبینہ ملوث 4اہم شخصیات گرفتار ،قومی خزانے کو کیسے لوٹاگیا؟ سب سامنے آگیا

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) قومی احتساب بیورو ( نیب ) لاہور نے صاف پانی کرپشن کیس میں کروڑوں روپے کے فراڈ میں مبینہ ملوث 4ملزمان کو گرفتار کرلیا ،نیب حکام چاروں گرفتار ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے آج ( بدھ ) احتساب عدالت کے روبرو پیش کرینگے۔ترجمان کے مطابق نیب لاہور صاف پانی کمپنی کرپشن کیس میں مبینہ مالی بدعنوانی پر باقاعدہ تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے،

مذکورہ کرپشن کیس میں مالی غبن کے حوالے سے موصول اہم شواہد کی بنیاد پر نیب لاہور کی بڑی پیش رفت ،کروڑوں روپے کے فراڈ میں مبینہ طور پر ملوث 4 ملزمان گرفتار کیا گیا ہے جن میں ملزم ناصر قادر بھدل،ملزم ڈاکٹر ظہیر الدین،ملزم محمد سلیم اور ملزم محمد مسعود اختر شامل ہیں ۔ ترجمان نیب کے مطابق ملزم ناصر قادر بھدل صاف پانی کمپنی میں بطور چیف پروکیورمنٹ آفیسر تعینات رہا،ملزم ڈاکٹر ظہیر الدین چیف ٹیکنیکل آفیسر صاف پانی کمپنی تعینات رہا ،ایسوسی ایٹڈ کنسلٹنٹ انجینئر ملزم محمد سلیم اختر صاف پانی کمپنی کیساتھ پروکیورمنٹ و کنٹریکٹ سپیشلسٹ منسلک رہا جبکہ ملزم محمد مسعود اختر مینیجنگ ڈائریکٹر کے ایس بی پمپس صاف پانی کمپنی میں بطور کنٹریکٹر منسلک رہا۔ ملزمان کی آپس کی ملی بھگت سے حکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچا،ملزمان نے بھاولپور ریجن میں انتہائی مہنگے داموں116 واٹر فلٹریشن پلانٹس نصب کیے، ملزمان کی جانب سے پلانٹس کی نصبی کے حوالے سے کاغذات میں قیمتوں کا غلط تعین و انداج کیا گیا اورحکومتی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا،تمام ملزمان کو الزامات کے دفاع کا مکمل موقع فراہم کیا،ملزمان کی گرفتاری اہم شواہد کی بنیاد پر عمل میں لائی گئی ۔ ترجمان کے مطابق نیب حکام چاروں گرفتار ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے حصول کیلئے آج ( بدھ ) احتساب عدالت کے روبرو پیش کرینگے اور دوران ریمانڈ تحقیقات کو آگے بڑھانے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…