پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سابق عراقی صدر مردِآہن صدام حسین کا مقبرہ تباہ،میت بھی غائب ،لاش یہ خاتون لےگئی،سکیورٹی چیف کا انکشاف

datetime 17  اپریل‬‮  2018 |

بغداد(سی پی پی)عراق کے سابق صدر مرد آہن صدام حسین کا مقبرہ تباہ ہوگیا جب کہ ان کی میت بھی قبر سے غائب ہے۔ایک فرانسیسی خبر رساں ادارے مطابق عراق کے شہر تکریت کے علاقے الوجا میں صدام حسین کا مقبرہ تباہ ہے اور قبر میں صدام کی لاش بھی موجود نہیں۔رپورٹ کے مطابق سابق عراقی صدر کے قبیلے ابونصر کے سربراہ شیخ مناف علی الندا کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے مقبرے کی چھت پر موجود داعش کے اسنائپر کو نشانہ

بنانے کے لئے عراقی طیارے نے بمباری کی جس کے نتیجے میں مقبرہ تباہ ہوگیا۔شیخ مناف کے مطابق وہ حملے کے وقت جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے تاہم مقبرہ تباہ ہے اور صدام حسین کی قبر میں ان کی میت بھی موجود نہیں ہے۔یاد رہے کہ 28 اپریل کو صدام حسین کی سالگرہ کے موقع پر ان کے قبیلے کے افراد اور حامی مقبرے پر حاضری دیتے ہیں اور اسکول کے بچوں کو بھی سابق صدر کی سالگرہ کے موقع پر ان کے مزار پر آنا تھا۔دوسری جانب علاقے کے سیکیورٹی چیف جعفر الغراوی کا کہنا ہے کہ صدام حسین کی میت وہیں موجود ہے جب کہ قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں کہ صدام حسین کی جلاوطن کی گئی صاحبزادی ہالا نجی طیارے میں تکریت پہنچیں اور اپنے والد کی قبر کشائی کے بعد میت اردن لے گئیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ ہالا کبھی عراق لوٹ کر نہیں آئیں تاہم صدام حسین کی قبر کھدی ہوئی ہے اور لاش بھی غائب ہے، نہیں جانتے کہ لاش کو کہاں منتقل کیا گیا ہے اور اس کے پس پردہ کون لوگ ہیں۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ صدام حسین کے والد کا مقبرہ بھی گاں کے داخلی راستے پر واقع تھا جسے دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ صدام حسین نے ساڑھے 23 سال تک عراق پر حکومت کی، امریکا کی جانب سے عراق پر کیمیائی ہتھیار بنانے کے الزامات کے بعد چڑھائی کی گئی اور صدام حسین کی حکومت کو مقامی افراد کی مدد سے گرایا گیا بعدازاں امریکا نے عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کی تردید کی۔30 دسمبر 2006 کو صدام حسین کو پھانسی دی گئی جس کے بعد انہیں تکریت کے علاقے الوجا میں سپردخاک کیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…