ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

خیبرپختونخوامیں سیاسی بساط بچھ گئی، صوبائی حکومت اپنے 14ممبران کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی توڑنے والی ہے، اہم سیاسی رہنما کے چونکادینے والے انکشافات

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکرٹری سردار حسین بابک نے انکشاف کیا ہے کہ صوبائی حکومت اپنے 14ممبران کو پارٹی سے نکال کر اسمبلی توڑنے کی راہ ہموار کر رہی ہے،تاہم وزیر اعلیٰ کی جانب سے اسمبلی توڑنے کے غیر جمہوری طرز عمل اور نا مناسب اقدام کی ہر صورت مذمت اور مخالفت کی جائے گی، اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبائی اسمبلی کے سپیکر کی جانب سے بار بار اجلاس ملتوی کرنے کی روایت جانبداری کی عکاس اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی بدترین مثال ہے ،

اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ صوبہ جس مالی بدانتظامی اور مسائل کا شکار ہے اس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی،ڈپٹی سپیکر کے عہدے پر الیکشن سے حکومت کترا رہی ہے اور اس اہم عہدے کو کیوں خالی چھوڑا جا رہا ہے؟انہوں نے کہا کہ دراصل حکومت کے پاس مطلوبہ تعداد ہی نہیں ہے جس سے وہ اس عہدے کو پُر کر سکے ،حکمران اسمبلی کے اندر اور باہر اعتماد کھو چکے ہیں ،سردار حسین بابک نے سپیکر کی جانب سے اپوزیشن کے22نکاتی ایجنڈے کو مسترد کرنے اور اجلاس نہ بلانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ سپیکر جانبدارانہ طرز عمل کو ترک کر کے حکومتی حکم پر بار بار اجلاس ملتوی کرنے کی نا مناسب روش ترک کردیں ، انہوں نے واضح کیا کہ اپوزیشن ممبران کی جانب سے 22نکاتی ایجنڈا صوبے کے مسائل و مشکلات کے کی نشاندہی اور ان کے حل کیلئے اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کرایا گیا تھا لیکن سپیکر نے ان میں سے7ممبران کے دستخطوں پر اعتراض لگا کر اسے مسترد کر دیا جس سے نہ صرف ان ممبران کی توہین بلکہ اسمبلی کا استحقاق بھی مجروح ہوا ہے،انہوں نے کہا کہ اپوزیشن ارکان نے اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن جمع کرائی تھی جس کے بعد سپیکر مقررہ معیاد کے اندر اسمبلی کا اجلاس بلانے کے پابند تھے،لیکن بد قسمتی سے اپوزیشن کی ریکوزیشن کو مسترد کر کے حکومتی اشاروں پر اجلاس بلا کر بگیر کسی کاروائی کے ملتوی کر دیا گیا،سردار حسین بابک نے کہا کہ در حقیقت حکومت کے پاس اسمبلی میں تعداد پوری نہیں جس کی وجہ سے اس نے بجٹ پیش کرنے سے معذرت کی کیونکہ یہ بجٹ پاس نہیں کراسکتے تھے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…