جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سرگودھا کے دربار میں 20افراد کو قتل کرنے کا واقعہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا،انسداد دہشتگردی عدالت نے اسی کیس سے متعلق بڑا فیصلہ کرلیا

datetime 16  اپریل‬‮  2018 |

حیدرآبادٹاؤن(آن لائن)نواحی گاؤں 95شمالی میں ایک سال قبل دربار محمد علی گجر پر ہونے والے بیس افراد کے قتل کے مقدمہ کی سماعت اہم موڑ میں داخل انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے بیس افراد کے مقدمہ قتل کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر شروع کردی عدالت نے مقدمہ کی سماعت آج 17 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے مقدمہ کے مزید چشم دید گواہان کو اج کیلئے طلب کرلیا ھے ۔

گزشتہ روز انسداد دہشتگردی سرگودھا کی خصوصی عدالت کے جج نے دربار پر ہونے والے بیس افراد کے مشہور مقدمہ قتل کی سماعت کی وکلاء4 کونسل کے پیش نہ ہونے کے باعث مقدمہ قتل کے چشم دید گواہ ان کی شہادتیں قلمبند نہ ہوسکی جس پر سماعت آج تک ملتوی کرتے ہوئے مقدمہ کے دیگر گواہان کو بھی طلب کر لیا ہے بیس افراد کے قتل میں ملوث جیلی پیر عبدالحمید اور اس کے ساتھیوں کو انتہائی سخت سیکورٹی میں ڈسٹرکٹ جیل سرگودھا سے لاکر عدالت کے سامنے پیش کیا گیا ملزمان پر قبل ازیں فرد جرم عائد ہو چکی ہے یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ نواحی چک 95شمالی کے دربار پر جیلی پیر عبدالحمید اور اس کے ساتھیوں نے 20 افراد کو قتل کر دیا تھا تھانہ صدر پولیس نے 20 افراد کے قتل کے مقدمہ کاچالان اور دیگر شواہد عدالت کے سامنے پیش کئے جن میں مقتولین کے ڈی این اے ٹیسٹ کے نمونہ جات بھی شامل ہیں مقدمہ کی سماعت انسداد دہشتگردی سرگودھا کی عدالت میں ہو رہی ہے باوثوق ذرائع کے مطابق چند روز قبل دربار پر قتل ہونے والے افراد کے لواحقین نے ڈی پی او آفس سرگودھا کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے بیس افراد کے مقدمہ قتل کا ٹرائل تیزی سے کرتے ہوئے فیصلہ کرنے کی استدعا کی میڈیا رپورٹ پر اعلیٰ عدلیہ نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے مقدمہ کہ ٹرائل میں تیزی اور روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا حکم دیا ہے ذرائع کے مطابق انسداد دہشت گردی سرگودھا کی عدالت آج سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے گی قبل ازیں مقدمہ کے مدعی پولیس سب انسپیکٹر سمیت چار گواہان کی شہادتیں قلمبند ہو چکی ہیں جن پر جرح ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…