جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

پاک کارگو سروس والوں کا کمال یا پھر کسٹم والوں کی ہوشیاری، لندن سے بھیجے گئے پارسلز سے قیمتی سامان نکال لیا گیا

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) لندن سے بھجوائے گئے پارسلز کو کارگو والوں نے کھول دیا اور اس سے تین قیمتی جوتوں کے جوڑے نکال لیے۔ تفصیلات کے مطابق نعیم نے لندن سے پاک کارگو سروس کے ذریعے دو پارسل بھیجے جن کا وزن بالترتیب 17 اور 13 کلوگرام تھالیکن یہ پارسل جب عدیل احمد سکنہ مسلم ٹاؤن صادق آباد کو ملے تو وہ کھلے ہوئے تھے

اور اس میں سے تین جوتوں کے جوڑے غائب تھے۔ جس پر پاک کارگو سروس والوں سے اس بارے استفسار کیا گیا کہ یہ پارسل کھلے ہوئے کیوں ہیں ، جس پر جواب دیا گیا کہ یہ کسٹم والوں نے چیک کرنے کے لیے کھولے تھے، جب ان کھلے ہوئے پارسلز کے بارے میں لندن کارگو والوں سے پوچھا گیاتو انہوں نے کہا کہ اس بارے میں آپ کو ایک ہفتے میں رپورٹ دی جائے گی۔ ایک ہفتے بعد پاک کارگو سروس لندن والوں نے وہی کہانی سناتے ہوئے دوبارہ ایک ہفتے کا ٹائم دے دیالیکن پھر بھی ایک ہفتہ گزر گیا اب جا کر انہوں نے اپریل میں بتایا ہے کہ آپ کا ایک جوتوں کا جوڑا غائب ہوا ہے حالانکہ نعیم کی طرف سے بھیجے گئے پارسلز میں سے تین جوڑے غائب ہیں اور وہ جوتے Clark کمپنی کے تھے جن کی قیمت تقریباً 35 ہزار روپے پاکستانی بنتی ہے۔ پاک کارگو سروس والوں نے تمام الزام کسٹم والوں پر لگا دیا ہے کہ پارسلز انہوں نے کھولے تھے اور انہوں نے ہی اس میں سے جوتے نکالے ہیں۔ پاک کارگو سروس کے ذریعے لندن سے پارسل بھیجنے والے نعیم نے کہا کہ پاک کارگو سروس اور کسٹم حکام کو اس معاملے کی تحقیقات کرانی چاہئیں کیونکہ آج اگر یہ ہمارے ساتھ ہوا ہے تو کل یہ کسی دوسرے کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، ایسی کالی بھیڑوں کو تحقیقات کے ذریعے نشاندہی کرکے انہیں قانون کے مطابق سزا دینی چاہیے۔ ایسا نہ کیا گیا تو لوگوں کا پاک کارگو سروس اور کسٹم حکام سے اعتماد اٹھ جائے گا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…