جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

لاڑکانہ : شادی کی تقریب میں گولیاں مار کر قتل کی گئی گلوکارہ کے اہلخانہ سے متعلق تشویشناک خبر، وزیر داخلہ سندھ فوری طور پر گھر پہنچ گئے

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

لاڑکانہ (این این آئی)صوبائی وزیر داخلہ سہیل انور سیال مقتول لوک فنکارہ کے گھر پہنچ گئے، جہاں انہوں نے ثمینہ سندھو کے ورثا اور شوہر سے تعزیت کی ہے۔تفصیلات کے مطابق وزیر داخلہ سندھ سہیل انور سیال لاڑکانہ میں قتل ہونے والی لوک فنکارہ ثمینہ سندھو کے ورثا سے تعزیت کے لیے ان کے گھر پہنچے جہاں انہوں نے مقتول کے گھر والوں اور شوہر سے تعزیت کی،

اس موقع پر مقتول فنکارہ کے ورثا کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کا اظہار کیا گیا، ورثا کا کہنا تھا کہ قاتلوں کی جانب سے مقدمے سے دستبردار ہونے کے لئے دھمکیاں مل رہی ہیں۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ مقتولہ ثمینہ سندھو کے مقدمے سے انصاف ہوگا، قاتلوں کو قانون کے مطابق سزا دلوائیں گے، ساتھ ہی انہوں نے ایس ایس پی لاڑکانہ کو مقتولہ کے ورثا کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ایس ایس پی لاڑکانہ تنویر تنیو نے وزیر داخلہ سندھ کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ مقتول ثمینہ سندھو کے قتل کا مقدمہ مضبوط ہے قاتل مقدمے میں بچ نہیں پائیں گے، ایس ایس پی لاڑکانہ نے ورثا کو یقین دلایا کہ دھمکیاں دینے والوں کو قانون کے شکنجے میں لایا جائے گا۔گزشتہ روز لوک فنکارہ ثمینہ سندھو کے قتل کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ جاری کی گئی تھی، جس میں فنکارہ کو گولی لگنے سے پیٹ میں موجود بچے کی موت کی تصدیق کی گئی تھی۔اس سے قبل بارہ اپریل کو لاڑکانہ میں فنکارہ ثمینہ سندھو کو قتل کرنے والے ملزم طارق جتوئی کو عدالت میں پیش کیا گیا تھا جہاں عدالت نے ملزم کو سات روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ دس اپریل کو لاڑکانہ میں جونیجو برادری کی شادی کی تقریب کے دوران نشے میں دھت شخص نے لوک فنکارہ ثمینہ سندھ کو گولی مار کر قتل کر دیا تھا، جس سے ثمینہ سندھو موقع پر ہی جاں بحق ہو گئی تھی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…