جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

زینب زیادتی و قتل کیس سمیت کئی کیسز میں مجرم ڈی این اے ٹیسٹ کی وجہ سے پکڑے گئے؟کیا آپ جانتے ہیں کہ پاکستان میںخون کے نمونے سے مجرم تک پہنچنے والی شخصیت ایک پاکستانی خاتون تھیں؟

datetime 14  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)شاید بہت کم پاکستانی یہ بات جانتے ہوں گے کہ پاکستان میں مجرموں تک پہنچنے کیلئے سائنسی طریقہ کار جسے آج کل فرانزک لیب کے ذریعے سر انجام دیا جاتا ہے جن میں خون کے نمونوں، آلہ قتل کا تجزیہ وغیرہ شامل ہیں ملک میں کب سے شروع ہوئے اور وہ پہلی شخصیت کون تھی جس نے خون کے نمونوں کے ذریعے مجرموں تک پہنچنے کا کام سب سے

پہلے شروع کیا ؟آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ پاکستان میں خون کے نمونے کے ذریعے مجرم تک پہنچنے کا کام کرنے والی ایک خاتون ہیں جن کا نام ہلڈا سعید ہے۔ پہلی سیرالوجسٹ ہونے کی وجہ سے ہلڈا جنسی زیادتی ، قتل اور ایسے مقدمات میں خون کے نمونوں اور آلات کا تجزیہ کرتی تھیں۔ہلڈا مذہباََ عیسائی ہیں جبکہ آپ کے خاوند ایک مسلمان ہیں۔ بی بی سی اردو سروس کی رپورٹ کے مطابق ہلڈا سعید پاکستان کی پہلی سیرالوجسٹ یعنی ماہرِ خون بنیں۔ 1970 کی دہائی میں جب ایڈز جیسے امراض اور جنسی صحت کے بارے میں بات کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا،۔ ہلڈا سعید نے ان امراض کے بارے میں آگاہی پھیلانے میں اہم کردار ادا کیا۔بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ہلڈا سعید کا کہنا تھا کہ جب پاکستان کا جھنڈا ڈیزائن ہوا تو اس میں ایک سفید پٹی رکھی گئی جو کہ غیر مسلم شہریوں کی نمائندگی کو ظاہر کرتی ہے مگر کبھی کبھی احساس ہوتا ہے کہ اس جھنڈا میں ہمارے لئے کوئی جگہ نہیں۔ میں نے ایک مسلمان سے شادی کی ، شادی کے بعد تعصب کا سامنا رہا اور لوگ کہتے تھے کہ اس کے ساتھ بیٹھ کر کھانا مت کھائیں اور نہ ہی انہیں گھر بلوائیں۔ ہلڈا سعید نے ملک میں خواتین اور بچوں کے حقوق کیلئے انتھک محنت کی وہ حدود آرڈیننس کے خلاف تھیں اور انہوں نے اس حوالے سے آواز اٹھائی۔ ہلڈا سعید کا انسانی حقوق کے حوالے سے کہنا تھا کہ اس ملک کی پالیسیاں آئن کے خلاف جا رہی ہیں اور آئین جن بنیادی حقوق کی فراہمی یقینی بناتا ہے وہ حقوق نہیں دئیے جارہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…