جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ میں آن لائن ووٹنگ سافٹ ویئر پر نادرا کی بریفنگ ٗماہرین نے اعتراضات اٹھادئیے

datetime 13  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سپریم کورٹ میں سمندرپار پاکستانیوں کی ووٹنگ کے طریقہ کار سے متعلق بریفنگ میں آئی ٹی ماہرین نے نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کی جانب سے تیار کیے گئے آن لائن ووٹنگ سافٹ وئیر پراعتراضات اٹھا دئیے اور کہا کہ یہ سافٹ وئیر باآسانی ہیک کیا جا سکتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف نے آن لائن ووٹنگ کے حق میں جبکہ حکمراں جماعت مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے آئندہ عام انتخابات میں آن لائن ووٹنگ کا تجربہ نہ کرنے سے متعلق چیف جسٹس کے سامنے گزارشات پیش کیں

جس پر چیف جسٹس نے ریماکس دیے کہ عدالت کسی طور بھی عام انتخابات کو متنازع نہیں بننے دے گی۔چیئرمین نادرا نے چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ سمیت الیکشن کمیشن حکام اور سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو آن لائن ووٹنگ سسٹم پر بریفنگ دی۔چیئرمین نادار نے بتایا بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ سسٹم پر15 کروڑ روپے اخراجات آئیں گے، سہولت سے 70 لاکھ سمندر پار پاکستانی استفادہ کرسکیں گے۔چیف جسٹس نے ریماکس دیے آئین میں ہر پاکستانی کو ووٹ کا حق دیا گیا ہے، 2013 میں عدالت نے تارکین وطن کو ووٹ کا حق دینے کا فیصلہ دیا تھا۔تاہم بریفنگ میں موجود آئی ٹی ماہرین نے نادرا کے سافٹ وئیر پر سوالات اٹھا دئیے۔ نسٹ کے آئی ٹی ماہر طحہ علی نے کہا کہ ایسے سافٹ وئیر امریکا، آسٹریلیا، ناروے سمیت مختلف ممالک میں استعمال کیے گئے، بعد میں فوری طور پر اس سافٹ وئیر کو واپس لے لیا گیا، الیکٹرانک ووٹنگ کے نظام کو ہیک کرنا مشکل نہیں۔اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے کہا کہ ووٹ کو خفیہ رکھنے کے امر کو یقینی بنانا ہوگا، مسلم لیگ ن کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے کہا کہ کم از کم آئندہ انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ کا تجربہ نہ کیا جائے،الیکشن کمیشن پر اس کی بساط سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔اس موقع پر جسٹس اعجاالاحسن نے کہا کہ موٹروے پر حادثات ہونے کی وجہ سے موٹروے بند نہیں کرسکتے، چیف جسٹس نے کہا کہ نقصان کااحتمال ہوا تو انتخابات مشکوک نہیں ہونے دیں گے،

پہلے اس آن لائن ماڈل کو فرضی انتخابات کروا کر چیک کر لیا جائیچیف جسٹس نے کہا کہ فرضی انتخابات کروانے ہوئے تو چار 5 ممبران سے میں استعفے دلوا دوں گا۔عدالت نے کہا کہ الیکشن کمیشن نادرا کی عملی مشق پر تکنیکی ماہرین سے رپورٹ لے، تمام فریقین آن لائن ووٹنگ سسٹم کا جائزہ لیں اور آئندہ سماعت پر سیاسی جماعتیں وکلا کی وساطت سے مؤقف پیش کریں۔چیف جسٹس آف پاکستان نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ انتخابی عمل کو مشکوک یا متنازع نہیں ہونے دیں گے، بیرون ملک مقیم پاکستانی ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں،

انتخابی اصلاحات پہلے ہوجاتیں تو مشق کے ذریعے معاملات بہتر ہوجاتے۔انہوں نے کہا کہ فنڈز دینے کے لئے اوورسیز پاکستانی روز خطوط لکھتے ہیں۔ اس موقع پر سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ مختلف علاقوں میں خواتین کو ووٹ کاسٹ کرنے نہیں دیا جاتا جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اس علاقے کے بڑے لوگ بیٹھ کرفیصلہ کرتے ہیں کہ خواتین ووٹ نہیں ڈالیں گی، عورت کا اس سے بڑھ کراستحصال کیا ہوگا۔چیف جسٹس نے کہا کہ اوورسیز پاکستانی ملک پر مرتے ہیں، ان پاکستانیوں کو مایوس نہیں کرنا چاہتے۔ بعد ازاں کیس کی سماعت 23 اپریل تک ملتوی کردی گئی۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…