جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

عدلیہ نے پہلی مرتبہ طاقتور کے گرد احتساب کا شکنجہ کسا ہے،سینٹ انتخابات میں ضمیر بیچنے والوں کے خلاف عمران خان نے اہم فیصلہ سنا دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف کی مرکزی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اجلاس کی صدارت کی۔اجلاس سے خطاب کے دوران عمران خان نے چار نکاتی قرارداد پیش کی ۔ قرارداد میں فاٹا کے انضمام میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی کی وجہ سے ہونے والی تاخیر کی شدید مذمت کی گئی۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھاکہ خوشی ہے چیف جسٹس اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹنگ کے حقوق

کی کوشش کررہے ہیں، پاکستان کا سب سے قیمتی اثاثہ اوورسیز پاکستانی ہیں، وہ زرمبادلہ نہ بھیجیں تو پہلے ہی ملک مقروض ہے۔انہوں نے کہا کہ گزشتہ انتخابات میں دو پارٹیوں نے چارٹر آف ڈیموکریسی کے نام پر مک مکا کیا اور اپنے امپائر کھڑے کیے، ایسا کبھی نہیں ہوا کہ الیکشن کو سب جماعتوں نے دھاندلی شدہ کہا ہو، پچھلی نگران حکومت شفاف انتخابات کرانے میں ناکام ہوئی، پچھلے تجربے سے سیکھ لیا، اس بار جو نگران حکومت بنے سب کی مشاورت سے بنے اور نیوٹرل امپار ہوں، جس کا مطلب ہے سب کو اس پر اعتماد ہو۔عمران خان نے کہا کہ کسی بھی حکومت کو 45 دن رہتے ہوئے بجٹ دینے کا اختیار نہیں ہم اس کی مخالفت کریں گے،خیبرپختونخوا میں بھی پرویز خٹک بجٹ نہیں دیں گے، ہمارے پاس اگلی حکومت کا بجٹ دینے کا کوئی مینڈیٹ نہیں۔جہانگیر ترین، شاہ محمود قریشی اور پرویز خٹک نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔بعد ازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیئرمین نے کہا کہ علی جہانگیر صدیقی کی بطور سفیر امریکہ نامزدگی کی بھرپور مخالفت کرتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی مقبولیت بلندیوں کو چھو رہی ہے۔ایک ایک نشست پر بہت سے خواہشمند امیدوار سامنے آرہے ہیں۔آج کے دن تک پہنچنے میں بہت سے دشوار گزار مرحلوں سے گزرے۔جن افراد نے انتخابات کی بہتر تیاری نہ کی اس سے ٹکٹ واپس لے لیں گے۔ٹکٹوں کی تقسیم

اور ضابطہ اخلاق کے مابین گہرا ربط ہے۔پارٹی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے۔ عمران خان نے مزید کہا کہ کوئی جماعت نظم و ضبط کے بغیر نہیں چل سکتی۔سینٹ انتخابات میں ضمیر بیچنے والوں کو پارٹی سے نکالنا ہے۔مکمل تحقیقات کے بعد سخت اقدام اٹھائیں گے۔2013 میں اسی فیصد نئے لوگوں کو میدان میں اتارا۔ایماندار، وفادار اور منتخب ہونے کی صلاحیت کے حامل افراد کو میدان میں اتاریں گے۔جب تک خود مطمئن نہیں ہوں گا کسی کو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔

خوب چھان پھٹک کر اپنے امیدواروں کا تعین کریں گے۔منظم اور بھرپور انداز میں احتساب کیخلاف مہم جاری ہے۔وزیر اعظم اور طاقتور میڈیا ہاوسز کی معاونت سے احتساب عدالت کے فیصلے پر اثر انداز ہونے کی کوششیں جاری ہیں۔عوام نواز شریف کے احتساب پر نہایت خوش اور مطمئن ہے۔عدلیہ نے پہلی مرتبہ طاقتور کے گرد احتساب کا شکنجہ کسا ہے۔لاہور کے جلسے کا خاص مقصد ہے۔

لاہور کے جلسے سے پیغام دیں گے کہ قوم اپنی عدلیہ اور اداروں کی پشت پر کھڑی ہے۔کارکنان لاہور کے جلسے کو تاریخی اور کامیاب بنانے کیلئے آج سے سرگرمیوں کا آغاز کریں۔لاہور کے جلسے کیلئے تیاریوں کا دائرہ ملک بھر میں پھیلانا ہے۔28 کی شام کو لاہور میں مینار پاکستان پر جشن کا سماں پیدا کریں گے۔لاہور کے جلسے میں منشور اور پہلے سو دن کا منصوبہ عمل دیں گے۔اجلاس میں پارٹی کا ضابطہ اخلاق متفقہ طور پر منظورکیا گیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…