جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

فیصلہ اقامہ پر آیا،غلط فیصلے کے بعد غلط کیس سے حقائق نکل رہے ہیں،نوازشریف

datetime 12  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (این این آئی)سابق وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اقامے پر آیا اور جھوٹ ثابت ہوا ٗ غلط فیصلے کے بعد غلط کیس سے حقائق نکل رہے ہیں ٗ پارٹی چھوڑ کر جانے والے سونے جیسے لوگ نہیں تھے ٗ تکلف دہ کہانی کی کھوج لگانی چاہیے ٗ جے آئی ٹی کے 40 نامعلوم اہلکاروں کو سامنے لایا جائے ٗ واجد ضیا جے آئی ٹی کے سربراہ ہیں ٗملک و قوم کے مالک نہیں ۔

جمعرات کو احتساب عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں نوازشریف نے کہا کہ انویسٹی گیشن کیلئے کن لوگوں کا سہارا لیا گیا ٗجے آئی ٹی کی رپورٹ بنانے کیلئے 40 لوگ تھے ٗپول کھل گیا ٗ 30تفتیش کار اور عملے کے 10 لوگ کون تھے؟۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ اقامے پرآیا وہ بھی جھوٹ ثابت ہوا ٗغلط فیصلے کے بعد غلط کیس سے حقائق نکل رہے ہیں۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ جے آئی ٹی کے ہیرے کون تھے؟ کون سے محکمے سے آئے تھے؟ کس نے یہ لوگ جے آئی ٹی کو دیئے اور یہ کردار کیوں سونپا گیا؟انہوں نے کہا کہ جب واجد ضیاء سے پوچھا جاتا ہے یہ کون لوگ تھے وہ کہتے ہیں میں نہیں بتاسکتا، وہ کیوں نہیں بتاسکتے ٗ آپ ملک کیمالک نہیں، صرف جے آئی ٹی کے سربراہ ہیں ٗ مجھ پر مقدمہ ہے ٗ میں اور قوم جاننا چاہتے ہیں ٗ یہ کون سے نامعلوم لوگ تھے جنہوں نے یہ کردار ادا کیا۔سابق وزیراعظم نے کہا کہ عدالت سے انصاف کی امید تو بہت ہے کیونکہ کیس میں کچھ بھی نہیں ٗاس کیس میں بہت ساری چیزیں خطرناک ہورہی ہیں ٗجو حقائق چھپائے گئے وہ سامنے آرہے ہیں۔ایک سوال کے جواب میں (ن) لیگ کے قائد نے کہا کہ جو پارٹی چھوڑ کرگئے وہ سونے جیسے لوگ نہیں تھے ٗ تکلیف دہ کہانی ہے اس کی کھوج لگانی چاہیے۔ انہوںنے کہاکہ مجھے چھوڑ کر جانے والے مفاد پرست ہیں، یہ ہمارے لوگ نہیں تھے، ہماری حکومت بننے پر ہمارے پاس آگئے تھے۔ چوہدری نثار سے متعلق سوالات کے باوجود نواز شریف نے ان کا کوئی جواب نہیں دیا۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…