جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق سازش لگتی ہے کیونکہ اگر سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیاگیا تو کون سا راستہ کھل جائے گا؟مولانا فضل الرحمن نے حیرت انگیز دعویٰ کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

مانسہرہ (مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف )کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق سازش لگتی ہے،تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کو تباہ کر دیا ہے ، صوبائی حکومت 300 ارب روپے کی مقروض ہے، عوام کو ووٹ کی پرچی کا استعمال سمجھ کر باطل کے مقابلے میں حق کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔

مانسہرہ میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق سازش لگتی ہے،ایک شخص حق کی بات کرتا ہے اور ہم فرائض کی بات کرتے ہیں، سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیکر کسی لابی کا راستہ تو نہیں کھولا جا رہا۔انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت نے خیبر پختونخوا کو تباہ کر دیا ہے ،اس وقت کے پی کے حکومت 300 ارب روپے کی قرض دار ہے۔انہوں نے کہا کہ اگلا الیکشن تحریک انصاف کا خیبر پختونخوا میں آخری الیکشن ہو گا۔انہوں نے کہا کہ ہم ریاست کو مانتے ہیں مگر اس کو چلانے والے ناکام ہو گئے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری سیاست و معیشت 70 سال سے قبضے میں ہے۔انہوں نے کہا کہ عوام کو ووٹ کی پرچی کا استعمال سمجھنا چاہئے اور ووٹ کو باطل کے مقابلے میں حق کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق سازش لگتی ہے،تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کو تباہ کر دیا ہے ، صوبائی حکومت 300 ارب روپے کی مقروض ہے، عوام کو ووٹ کی پرچی کا استعمال سمجھ کر باطل کے مقابلے میں حق کیلئے استعمال کرنا چاہئے۔مانسہرہ میں علماء کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق سازش لگتی ہے



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…