جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

منظور پشتین کے مطالبات جائز ہیں یا ناجائز؟ عمران خان کا دوٹوک موقف سامنے آگیا، جنرل باجوہ سے بات براہ راست کرنے کا اعلان کردیا

datetime 11  اپریل‬‮  2018 |

پشاور(این این آئی)پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ قبائلی علاقوں میں چیک پوائنٹس سے لوگوں کو مشکلات درپیش ہیں، ، لوگوں کا لاپتہ ہونا انتہائی تکلیف دہ ہے ،لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے بھی جنرل قمرجاوید باجوہ سے بات کروں گا، اقتدار میں آکر فاٹا کو خیبرپختونخوا میں ضم کریں گے، انتخابات کے بعد چاروں صوبوں میں ہماری حکومت ہوگی۔

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے ایوب آفریدی کی رہائش گاہ پر کارکنوں سے خطاب میں کہنا تھا کہ میں وعد کرتا ہوںکہ قبائلیوں کیلئے جنرل باجوہ سے ملاقات کرونگا ، آرمی چیف سے درخواست کرونگا کہ چیک پوائٹس کم کرے ،آرمی چیف سے لاپتہ افراد کے بارے میں بھی بات کرونگا۔ہم فاٹا میں بلدیاتی الیکشن کروانگے تاکہ فنڈ خرچ ہوسکے۔ یہ ضروری ہے کہ فاٹا میں ترقیاتی فنڈ خرچ کیا جائے تاکہ ترقی آئیں،فاٹا کی ریفامز میں تاخیر مولانا فضل الرحمان کی وجہ سے پیش آیا۔ شہباز شریف تو یہ سوچ رہے ہے کہ یہاں کتنا پیسا بنایا جا سکتا ہے ۔بی آر ٹی کا مقابلہ تمام میٹروز سے ہوگا ۔ بی آر ٹی منصوبے میں کوئی خسارہ نہیں ہوگا ۔عمران خان کاکہنا تھا کہ شہباز شریف کو قرضے کی بات کرنے پر شرم آنی چاہیئے، نوا زشریف اور زرداری کے دور میں ہر پاکستانی قرضدار تھا،شہباز شریف نے اشتہاروں میں ترقی کی ہم نے زمینی حقائق پر تبدیلی دکھائی،، منظور پشتین کے مطالبات جائز ہے۔کپتان کاکہنا تھا کہ ایوب آفریدی سینیٹ کے رکن منتخب ہونے پر مبارکباد کے مستحق ہیں،تقریب سے سینیٹر ایوب افریدی نے بھی خطاب کیا انکاکہنا تھا کہ قبائل میں پندرہ سال میں ایسا گھر نہیں جہاں سے جنازہ نہیں اٹھا، قبائلی علاقوں میں سکول، ہسپتال اور سڑکیں تباہ ہیں، قبائل عمران خان کو امید کی نظروں سے دیکھتے ہیں، عمران خان ہی ملک کے آ ئند ہ وزیر اعظم ہوں گے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…