جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

انتظار کا قتل حادثہ نہیں بلکہ سفاکانہ کارروائی تھی،مدیحہ کیانی کو نشہ آور اشیاء کھلاکر بیان ریکارڈ کیاگیا،انتہائی افسوسناک انکشافات، کیس کا رُخ ہی بدل گیا

datetime 10  اپریل‬‮  2018 |

کراچی (این این آئی)کراچی کے علاقے ڈیفنس میں اے سی ایل سی پولیس کے ہاتھوں قتل ہونے والے نوجوان انتظار کیس کی تحقیقات کے لیے قائم کی گئی جے آئی ٹی نے ایس ایس پی مقدس حیدر کے خلاف محکمہ جاتی کارروائی کی سفارش کی ہے ۔جے آئی ٹی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انتظار کا قتل حادثہ نہیں بلکہ سفاکانہ کارروائی ہے ۔تفصیلات کے مطابق ڈیفنس میں اے سی ایل سی پولیس اہلکاروں کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے انتظار احمد کی جے آئی ٹی رپورٹ سامنے آگئی ۔

ثنا اللہ عباسی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی جے آئی ٹی کا کہنا ہے کہ انتظار احمد کی موت حادثہ نہیں قتل ہے ۔پولیس پارٹی نے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی کی ہے اور واقعے کے وقت پولیس اہلکار سادہ لباس میں ملبوس تھے ۔جے آئی ٹی رپورٹ میں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ انتظار احمد کے قتل کی عینی شاہد مدیحہ کیانی کو نشہ آور اشیا کھلا کر بیان ریکارڈ کیا گیا تھا جبکہ دوسری جانب مدیحہ کیا نی اور مقدس حیدر کے درمیان کوئی تعلق ثابت نہ ہوسکا ۔جے آئی ٹی نے انتظار کے والد سمیت 17 افراد کے بیانات قلمبند کیے ۔جے آئی ٹی ٹیم نے تمام اہلکاروں کا موبائل فون ڈیٹا بھی حاصل کیا تھا۔جے آئی ٹی ٹیم نے آئی جی سندھ سے سفارش کی ہے کہ مقدس حیدر اور تمام ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی کی جائے ۔واضح رہے کہ جے آئی ٹی کے مجموعی طور پر 6 اجلاس ہوئے جس کے بعد رپورٹ تیار کی گئی ہے ۔ادھر انتظار کے والد نے جے آئی ٹی رپورٹ پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام واقعے کی ذمہ دار صرف اور صرف پولیس ہے فیصلہ عدالت پر چھوڑ دیا مجھے انصاف ملے گا۔انہوں نے کہا کہ تاحال جے آئی ٹی رپورٹ نہیں ملی،میڈیا کے زریعے جے آئی ٹی رپورٹ کے بارے میں معلوم ہوا ہے ۔جے آئی ٹی رپورٹ کے جو نکات میڈیا پر چل رہے ہیں ان سے مطمئن ہوں،جے آئی ٹی نے انتظار کے قتل کو سفاکانہ عمل قرار دیا ہے،تمام واقعہ کی ذمہ دار صرف اور صرف پولیس ہے۔انتظار کے والد نے کہا کہ اب معاملہ عدالت جائے گا،مجھے عدالت پر مکمل اعتماد ہے۔مجھے انصاف ملے گا ۔انہوں نے کہا کہ مدیحہ کیانی کا سابق ایس ایس پی اے سی ایل سی مقدس حیدر سے کوئی تعلق نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…