منگل‬‮ ، 23 جون‬‮ 2026 

کیا قصور میں صرف عمران ہی تھا یا پورا گروہ سرگرم ہے؟ زینب کے واقعے کے بعد صرف گزشتہ 2 دن میں کتنے بچوں کے ساتھ زیادتی ہوئی؟ پولیس کیا کرتی رہی؟ شرمناک انکشافات

datetime 9  اپریل‬‮  2018 |

قصور (نیوز ڈیسک) گزشتہ دو دنوں میں قصور کے علاقے میں مبینہ طور پر چھ زیادتی کے کیسز سامنے آئے۔ دوسری طرف پولیس بصرپورہ کے ایک پانچ سالہ بچے کو جو دو ہفتے سے لاپتہ ہے ابھی تک بازیاب کرانے میں ناکام ہے، قصور پولیس نے گزشتہ دو دنوں میں موبائل کی دکانوں پر بھی چھاپے مارے ہیں جو چند روپوں کی خاطر نازیبا ویڈیو کلپس فروخت کرتے ہیں۔ گزشتہ روز پولیس نے قصور، الہ آباد، پھول نگر اور کھدیاں سے درجنوں دکانداروں کو گرفتار کیا ہے

اور ان سے لیپ ٹاپ اور کمپیوٹرز جن میں نازیبا مواد تھا برآمد کرکے سیکشن 293 پی پی سی کے تحت مقدمات کا اندراج کر لیا ہے۔ ہفتے کے روز چارمشتہ افراد نے دو چھوٹے لڑکوں (ز) اور (ا) کو اس وقت اغوا کر لیا جب وہ عیدگاہ گراؤنڈ مصطفی آباد میں کبڈی میچ دیکھ کر واپس گھر آ رہے تھے۔ مشتبہ افراد ان لڑکوں کو گاؤں سے باہر موجود ایک گھر میں لے گئے، جہاں ان لڑکوں پر زیادتی سے قبل تشدد کیا گیا، ان میں سے ایک لڑکا (ا) وہاں سے نکلنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے آ کر اس کے گھر والوں کو اطلاع دی، جس پر اس کے خاندان والے اور گاؤں کے لوگ وہاں پہنچ کر لڑکے (ز) کو انتہائی خراب حالت میں بازیاب کرا لیا، اس موقع پر زیادتی کرنے والے چاروں افراد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ گاؤں کے لوگ لڑکوں کو مصطفیٰ آباد تھانے میں لے گئے لیکن پولیس نے مقدمہ کے اندراج سے انکار کر دیا۔ گاؤں والے نے پولیس کے اس رویہ پر احتجاج شروع کر دیا اور پولیس سٹیشن کے سامنے فیروز پور روڈ کو بند کر دیا۔ ان کے احتجاج کے باعث یہ روڈ دو گھنٹے تک بند رہا۔ مظاہرین پولیس سے ملزمان کی گرفتاری اور مقدمے کا اندراج کا مطالبہ کرتے رہے، بعد ازاں ڈی پی او زاہد نواز مروت کی مداخلت پر مقدمہ درج کر لیا گیا اور مظاہرین پرامن منتشر ہوگئے۔ دریں اثناء گاؤں کوٹ ماواتی میں ایک حجام کو بارہ سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا، اس کے علاوہ گاؤں بدھ کلاں میں ایک شخص کو پانچ سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔

بستی چراغ شاہ میں ایک بیس سالہ شخص نے چھ سالہ بچے کو ٹیوشن سینٹر میں زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ اس نے ملزم کو گرفتار کرکے مقدمے کا اندراج کر دیا ہے۔ بصارپورہ میں بی ڈویژن پولیس نے ایک شخص کو سات سالہ بچے کے ساتھ زیادتی کے الزام میں گرفتار کر لیا۔ پولیس دو ہفتے سے لاپتہ پانچ سالہ بچے کو ابھی تک تلاش کرنے میں ناکام ہے جو گھر کے نزدیک ایک دکان پر گیا تھا، قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی تلاش میں ہیں لیکن ابھی تک انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔



کالم



فورنگ میں ایک رات


ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…