ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

افغان مدرسے پر جب نیٹو نے فضائی حملہ کیا تو اس وقت وہاں قرآن کے کتنے حفاظ کرام موجود تھے اور وہاں کیا کام ہو رہا تھا؟ پاکستان کے کس علاقے میں چند سال قبل امریکی طیاروں نے مدرسے پر حملہ کر کے درجنوں حفاظ کو شہید کیا تھا؟

datetime 5  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی ) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے افغان شہر قندوز میں دینی مدرسے پر بمباری کی شدید مذمت اور کم سن بچوں سمیت بڑے پیمانے پر ہلاکتوں پر کرب و الم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ معصوم بچوں کا بہیمانہ قتل عام عالمی ضمیر کے چہرے پر ایک طمانچہ ہے، دہشت گردی کیخلاف نام نہاد امریکی جنگ کا یہ مکروہ ترین رخ اور چہرہ ہے۔

انہو ں نے کہا اس واقعے سے خطے پر ہی نہیں عالمی امن پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے، اس نے ڈمہ ڈولہ سانحے کے زخم تازہ کردیے ہیں، عمران خان نے کہا ڈمہ ڈولہ میں دینی مدرسے پر امریکی ڈرون حملے کے بعد دہشت گردی کی بدترین لہر نے جنم لیا، اس قسم کی شرانگیز کارروائیاں دہشت گردی کے فروغ اور شدت کے اسباب مہیا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں۔دوسری جانب افغان صدر ڈاکٹر اشرف غنی نے صوبہ قندوز میں ڈیڑھ سو نہتے طلبہ کے قتل کے واقعے کی تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے تحقیقاتی ٹیم تشکیل دیدی۔افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کی پارلیمنٹ کے ارکان نے اجلاس کے دوران قندوز واقعے پر کہاکہ اگر اس طرح نہتے شہریوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رہا تو عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ جائیں گے۔افغان صدر اشرف غنی نے قندوز کے ضلع دشت ارچی میں مدرسے پر حملے اور ڈیڑھ سو طلبا کے قتل کی تحقیقات کیلئے کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور اسے فوری طور پر رپورٹ دینےکا حکم دیا ہے۔اقوام متحدہ پہلے ہی بے گناہوں کے قتل عام کی تحقیقات کر رہا ہے۔ پیر کے روز مبینہ طور پر نیٹو طیاروں نے صوبہ قندوز کے ضلع دشت ارچی میں ایک مدرسے پر فضائی حملہ کرکے ڈیڑھ سو طلبہ کو قتل اور پچاس سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔ مقامی افراد کے مطابق مدرسے میں بچوں

کی دستار بندی کی تقریب جاری تھی۔ اور دو سو سے زائد طلبہ اور دیگر افراد موجود تھے کہ اچانک فضائی حملہ کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…