ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

اسحاق ڈار اثاثہ جات کیس، منصور رضا کے وکیل صفدر ہائی کورٹ بار جاوید اکبر کی جج محمد بشیر سے شدید بدتمیزی، احاطہ عدالت میں ہی قانون کی دھجیاں اُڑا دیں

datetime 4  اپریل‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) احتساب عدالت میں جج سے بدتمیزی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر جاوید اکبر نے کہا کہ ملزم عدالت میں موجود تھا لیکن وارنٹ جاری کیے گئے، جاوید اکبر نے کہا کہ وارنٹ جاری کرنا قانونی تقاضوں کے خلاف ہے، انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا ٹائم ہوتا ہے ساڑھے آٹھ بجے، لیکن جج صاحب وقت سے پہلے صبح آٹھ بجے عدالت لگا کر بیٹھ گئے۔

احتساب عدالت میں جج سے ملزم کے وکیل نے بدتمیزی کی، جاوید اکبر نے کہاکہ میں چند منٹ کے لیے جج صاحب کے سامنے عدالت سے باہر گیا ہوں لیکن میرے موکل کے خلاف جج نے بلاضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے، حالانکہ میں عدالت کے احاطے میں موجود تھا جج صاحب کی یہ حرکت قانونی تقاضوں کی دھجیاں اڑانے کے مترادف ہے اور مجھے بڑا افسوس ہے کہ میں نے یہ کالا کوٹ اس طرح کے ججوں کے ہوتے ہوئے کیوں پہنا ہوا ہے۔ اس سے قبل صدر ہائی کورٹ بار جاوید اکبر وکالت نامہ پھینک کر چلے گئے، جاوید اکبر نے کہاکہ خود بھی جا رہا ہوں اور ملزم کو بھی لے جا رہا ہوں، عدالت نے ملزم منصور رضا کی طلبی کے لیے تین بار آواز لگوائی لیکن ملزم پیش نہ ہوئے، جج محمد بشیر نے جاوید اکبر سے کہا کہ آپ آرام سے بات کریں اور اپنا وکالت نامہ دیں، احتساب عدالت نے ملزم کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے اور جاوید اکبر کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔  احتساب عدالت میں جج سے بدتمیزی کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ بار کے صدر جاوید اکبر نے کہا کہ ملزم عدالت میں موجود تھا لیکن وارنٹ جاری کیے گئے، جاوید اکبر نے کہا کہ وارنٹ جاری کرنا قانونی تقاضوں کے خلاف ہے، انہوں نے کہا کہ عدالتوں کا ٹائم ہوتا ہے ساڑھے آٹھ بجے، لیکن جج صاحب وقت سے پہلے صبح آٹھ بجے عدالت لگا کر بیٹھ گئے۔ احتساب عدالت میں جج سے ملزم کے وکیل نے بدتمیزی کی

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…