ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

پیسہ زیادہ آ جائے تو دماغ خراب ہو جاتا ہے، کراچی کرکٹ سٹیڈیم میں 5 ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر آنے والے 5 سو روپے کی ٹکٹ لینے والے شائقین کرکٹ کو کیا کہتے رہے؟ انتہائی افسوسناک صورتحال

datetime 3  اپریل‬‮  2018 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران انتہائی افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آئی جب پانچ ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر آنے والے ایک شخص نے پانچ سو روپے ٹکٹ والے کرکٹ شائقین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاباش غریبو، شاباش غریبو۔

پاکستان میں جاری وی آئی پی کلچر کے خلاف لوگوں نے آوازیں بلند کرنا شروع کی ہوئی ہیں لیکن بعض لوگ ایسے بھی یہاں موجود ہے جو اس وی آئی پی کلچر کو ختم نہیں کرنا چاہتے اور آئے روز اپنی امارت کے بل بوتے پر دوسروں کی تضحیک کرتے نظر آتے ہیں۔ ایسا ہی کچھ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھنے آیا، جب پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان دوسرا ٹی ٹوئنٹی میچ جاری تھا، اس ویڈیو میں 5000 روپے والی ٹکٹ خریدنے والا شخص 500 روپے والی ٹکٹ خریدنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ’’شاباش غریبو، شاباش غریبو‘‘ کہہ رہا ہے، اس کے علاوہ ایک اور شرمناک بات یہ ہے کہ اس کے ساتھ بیٹے ہوئے لوگ بھی اس پر خوشی کا اظہار کرتے رہے۔ سوشل میڈیا پر اس شخص پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئی شخص امیر اور غریب پیسوں سے نہیں بلکہ اپنے اخلاق اور کردار کی وجہ سے ہوتا ہے۔  پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے ٹی ٹوئنٹی میچ کے دوران انتہائی افسوسناک صورتحال دیکھنے میں آئی جب پانچ ہزار روپے کا ٹکٹ خرید کر آنے والے ایک شخص نے پانچ سو روپے ٹکٹ والے کرکٹ شائقین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ شاباش غریبو، شاباش غریبو۔ پاکستان میں جاری وی آئی پی کلچر کے خلاف لوگوں نے آوازیں بلند کرنا شروع کی ہوئی ہیں لیکن بعض لوگ ایسے بھی یہاں موجود ہے جو اس وی آئی پی کلچر کو ختم نہیں کرنا چاہتے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…